السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3802. -- باب: الأضحية سنة نحب لزومها ونكره تركها
-- باب: قربانی ایک سنت ہے، ہم اس کی پابندی کو پسند کرتے ہیں اور اسے ترک کرنے کو ناپسند کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 19025
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، أنبأ أَبُو يَعْلَى، ثنا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا ابْنُ عُلَيَّةَ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ زَادَ: ثُمَّ انْكَفَأَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى كَبْشَيْنِ فَذَبَحَهُمَا فَقَامَ النَّاسُ إِلَى غَنِيمَةٍ فَتَوَزَّعُوهَا أَوْ قَالَ: تَجَزَّعُوهَا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ صَدَقَةِ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ابْنِ عُلَيَّةَ بِطُولِهِ، وَعَنْ مُسَدَّدٍ مُخْتَصَرًا، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ.
ابنِ علیہ رحمہ اللہ نے اپنی سند سے ذکر کیا ہے، اس میں زیادتی ہے کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو مینڈھوں کی طرف مڑے اور انھیں ذبح کر دیا، تو لوگ بکریوں کے ایک چھوٹے ریوڑ کی طرف اٹھے اور اسے آپس میں بانٹ لیا، یا فرمایا: اس کے حصے کر لیے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19025]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 19025 in Urdu