السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3802. -- باب: الأضحية سنة نحب لزومها ونكره تركها
-- باب: قربانی ایک سنت ہے، ہم اس کی پابندی کو پسند کرتے ہیں اور اسے ترک کرنے کو ناپسند کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 19026
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنَ إِبْرَاهِي مَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، أَنَّ عُوَيْمِرَ بْنَ أَشْقَرَ ذَبَحَ ضَحِيَّتَهُ قَبْلَ أَنْ يَغْدُوَ يَوْمَ الْأَضْحَى، وَأَنَّهُ ذَكَرَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ فَأَمَرَهُ أَنْ يَعُودَ لِضَحِيَّةٍ أُخْرَى.
عباد بن تمیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عویمر بن اشعر رضی اللہ عنہ نے عید کی نماز پڑھنے سے پہلے قربانی کر دی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی جگہ دوسری قربانی کرنے کا حکم دیا۔
(ب) بشری بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابو بردہ بن نیار رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانی ذبح کرنے سے پہلے ذبح کر دی تو ان کا گمان ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو دوبارہ قربانی کرنے کا حکم فرمایا۔ ابو بردہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے پاس صرف جزعہ ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر صرف تیرے پاس جزعہ ہے تو ذبح کر ڈال۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19026]
(ب) بشری بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابو بردہ بن نیار رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانی ذبح کرنے سے پہلے ذبح کر دی تو ان کا گمان ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو دوبارہ قربانی کرنے کا حکم فرمایا۔ ابو بردہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے پاس صرف جزعہ ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر صرف تیرے پاس جزعہ ہے تو ذبح کر ڈال۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19026]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 19026 in Urdu