السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3808. -- باب: ما ورد النهي عن التضحية به
-- باب: جن جانوروں کی قربانی کرنے کی ممانعت وارد ہوئی ہے ان کا بیان۔
حدیث نمبر: 19097
يُرِيدُ مَا أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَحْمَدَ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ فَيْرُوزَ، قَالَ: سَأَلْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَا كَرِهَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ نَهَى عَنْهُ مِنَ الْأَضَاحِيِّ فَقَالَ: قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَكَذَا وَيَدِي أَقْصَرُ مِنْ يَدِهِ فَقَالَ:" أَرْبَعٌ لَا يُجْزِينَ: الْعَوْرَاءُ الْبَيِّنُ عَوَرُهَا، وَالْمَرِيضَةُ الْبَيِّنُ مَرَضُهَا، وَالْعَرْجَاءُ الْبَيِّنُ ظَلَعُهَا، وَالْكَسِيرَةُ الَّتِي لَا تَنْقَى". قُلْتُ: إِنِّي أَكْرَهُ أَنْ يَكُونَ فِي السِّنِّ نَقْصٌ أَوْ فِي الْأُذُنِ نَقْصٌ، فَقَالَ: فَمَا كَرِهْتَ مِنْهُ فَدَعْهُ وَلَا تُحَرِّمْهُ عَلَى أَحَدٍ..
عبید بن فیروز کہتے ہیں: میں نے سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کن جانوروں کی قربانی سے منع کرتے تھے؟ فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا (لیکن میرا ہاتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ سے چھوٹا ہے) کہ ”چار قسم کے جانوروں کی قربانی کرنا جائز نہیں ہے: کانا جانور جس کا کانا پن ظاہر ہو، بیمار جانور جس کی بیماری واضح ہو، اور ایسا لنگڑا جانور جس کا لنگڑا پن ظاہر ہو اور ایسا بوڑھا جانور جس کی ہڈیوں میں گودا نہ ہو۔“ راوی کہتے ہیں: میں دانت یا کان میں نقص کو ناپسند کرتا ہوں۔ فرمایا: جس کو تو ناپسند کرتا ہے چھوڑ دے لیکن کسی دوسرے کے اوپر حرام قرار نہ دے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19097]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 19097 in Urdu