السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3849. -- باب: لا يمس الصبي بشيء من دمها
-- باب: بچے کو عقیقے کے خون میں سے کچھ نہ لگایا جائے۔
حدیث نمبر: 19288
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ، ثناعَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا أَبِي، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي بُرَيْدَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: كُنَّا فِي الْجَاهِلِيَّةِ إِذَا وُلِدَ لِأَحَدِنَا غُلَامٌ ذَبَحَ شَاةً وَلَطَّخَ رَأْسَهُ بِدَمِهَا، فَلَمَّا جَاءَ اللهُ بِالْإِسْلَامِ كُنَّا نَذْبَحُ شَاةً وَنَحْلِقُ رَأْسَهُ وَنُلَطِّخُهُ بِزَعْفَرَانٍ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَفِي حَدِيثِ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فِي الْإِبِلِ فَرَعٌ، وَفِي الْغَنَمِ فَرَعٌ، وَيُعَقُّ عَنِ الْغُلَامِ، وَلَا يُمَسُّ رَأْسُهُ بِدَمٍ".
عبداللہ بن بریدہ نے اپنے والد سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ جاہلیت میں جب بچہ پیدا ہوتا تو عقیقہ کی بکری کا خون بچے کے سر پر مل دیا جاتا، جب اللہ تعالیٰ نے اسلام پہنچا دیا، پھر ہم بکری ذبح کرتے، بچے کا سر مونڈتے اور اس کے سر پر زعفران لگا دیتے۔
(ب) یزید بن عبداللہ مزنی اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اونٹوں میں «الْفَرَعُ» (پہلوٹھی کے بچے کی قربانی) ہے اور بکریوں میں بھی «الْفَرَعُ» ہے، اور بچے کی جانب سے عقیقہ کیا جائے لیکن اس کے سر کو خون نہ لگایا جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19288]
(ب) یزید بن عبداللہ مزنی اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اونٹوں میں «الْفَرَعُ» (پہلوٹھی کے بچے کی قربانی) ہے اور بکریوں میں بھی «الْفَرَعُ» ہے، اور بچے کی جانب سے عقیقہ کیا جائے لیکن اس کے سر کو خون نہ لگایا جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19288]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 19288 in Urdu