السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3849. -- باب: لا يمس الصبي بشيء من دمها
-- باب: بچے کو عقیقے کے خون میں سے کچھ نہ لگایا جائے۔
حدیث نمبر: 19289
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ، ثنا أَبُو حُمَةَ مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو قُرَّةَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، حَدِيثًا ذَكَرَهُ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ رُسْتَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ الصَّيْرَفِيُّ، ثنا عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فِي حَدِيثِ الْعَقِيقَةِ قَالَتْ: وَكَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَجْعَلُونَ قُطْنَةً فِي دَمِ الْعَقِيقَةِ وَيَجْعَلُونَهُ عَلَى رَأْسِ الصَّبِيِّ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُجْعَلَ مَكَانَ الدَّمِ خَلُوقٌ. قَالَ الْفَقِيهُ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَوْلُهُ فِي حَدِيثِ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ: أَمِيطُوا عَنْهُ الْأَذَى، يُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ الْمُرَادُ بِهِ حَلْقَ الرَّأْسِ، وَالنَّهْيَ عَنْ أَنْ يُمَسَّ رَأْسُهُ بِدَمِهَا.
عمرہ رحمہا اللہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے عقیقہ کی حدیث میں بیان فرماتی ہیں کہ زمانۂ جاہلیت میں لوگ عقیقہ کے جانور کے خون میں روئی تر کر کے بچے کے سر پر خون لگا دیتے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ”خون کی جگہ خلوق لگانے کا حکم دے دیا۔“
فقیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ ”بچے کے سر سے پلیدی دور کی جائے۔“ اس سے مراد یہ ہو سکتی ہے کہ سر مونڈا جائے اور بچے کے سر پر خون لگانے سے منع کیا جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19289]
فقیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ ”بچے کے سر سے پلیدی دور کی جائے۔“ اس سے مراد یہ ہو سکتی ہے کہ سر مونڈا جائے اور بچے کے سر پر خون لگانے سے منع کیا جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19289]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 19289 in Urdu