السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3851. -- باب: ما جاء في التصدق بزنة شعره فضة وما تعطى القابلة
-- باب: بچے کے بالوں کے وزن کے برابر چاندی صدقہ کرنے اور دایہ کو دیے جانے والے حصے کے متعلق کیا مروی ہے۔
حدیث نمبر: 19299
أَخْبَرَنَا الشَّرِيفُ أَبُو الْفَتْحِ الْعُمَرِيُّ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي شُرَيْحٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أنبأ شَرِيكٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنِ ابْنِ الْحُسَيْنِ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ: لَمَّا وَلَدَتْ فَاطِمَةُ حَسَنًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ أَلَا أَعُقُّ عَنِ ابْنِي بِدَمٍ؟ قَالَ: لَا، وَلَكِنِ احْلِقِي شَعْرَهُ وَتَصَدَّقِي بِوَزْنِهِ مِنَ الْوَرِقِ عَلَى الْأَوْفَاضِ أَوْ عَلَى الْمَسَاكِينِ". قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ: قَالَ شَرِيكٌ: يَعْنِي بِالْأَوْفَاضِ أَهْلَ الصُّفَّةِ، فَفَعَلَتْ ذَلِكَ، فَلَمَّا وَلَدَتْ حُسَيْنًا فَعَلَتْ مِثْلَ ذَلِكَ.
سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے جب سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو جنم دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگیں: کیا میں اپنے بیٹے کی جانب سے خون بہاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں بلکہ بال اتار کر بالوں کے وزن کے برابر «اوفاض» پر یا مساکین پر چاندی صدقہ کر دو۔“ شریک رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اوفاض سے مراد صفہ والے ہیں۔ چنانچہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ایسا ہی کیا، اور جب سیدنا حسین رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے تو پھر بھی اسی طرح کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19299]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 19299 in Urdu