🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3851. -- باب: ما جاء في التصدق بزنة شعره فضة وما تعطى القابلة
-- باب: بچے کے بالوں کے وزن کے برابر چاندی صدقہ کرنے اور دایہ کو دیے جانے والے حصے کے متعلق کیا مروی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19300
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ الصَّيْرَفِيُّ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَشْعَثَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سَلَمَةَ وَهُوَ ابْنُ أَبِي الْحُسَامِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ حِينَ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ أَرَادَتْ أَنْ تَعُقَّ عَنْهُ بِكَبْشٍ عَظِيمٍ، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهَا: لَا تَعُقِّي عَنْهُ بِشَيْءٍ، وَلَكِنِ احْلِقِي شَعْرَ رَأْسِهِ ثُمَّ تَصَدَّقِي بِوَزْنِهِ مِنَ الْوَرِقِ فِي سَبِيلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ أَوْ عَلَى ابْنِ السَّبِيلِ". وَوَلَدَتِ الْحُسَيْنَ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ فَصَنَعَتْ مِثْلَ ذَلِكَ. تَفَرَّدَ بِهِ ابْنُ عَقِيلٍ وَهُوَ إِنْ صَحَّ فَكَأَنَّهُ أَرَادَ أَنْ يَتَوَلَّى الْعَقِيقَةَ عَنْهُمَا بِنَفْسِهِ كَمَا رُوِّينَاهُ، فَأَمَرَهَا بِغَيْرِهَا وَهُوَ التَّصَدُّقُ بِوَزْنِ شَعْرِهِمَا مِنَ الْوَرِقِ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
ابو رافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی پیدائش ہوئی تو والدہ نے ان کی جانب سے ایک بڑے مینڈھے کا عقیقہ کرنا چاہا، تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو عقیقہ نہ کر بلکہ ان کے سر کے بال اتار کر بالوں کے وزن کے برابر اللہ کے راستے میں یا مسافروں پر چاندی صدقہ کرو۔“ جب آئندہ سال حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی ولادت ہوئی تو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اسی طرح کیا۔ اگر یہ حدیث صحیح ہے تو گویا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کا عقیقہ اپنی جانب سے کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بالوں کے وزن کے برابر چاندی صدقہ کرنے کا کہا۔
اس روایت کو بیان کرنے میں ابن عقیل منفرد ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19300]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 19300 in Urdu