السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3892. -- باب: التمائم
-- باب: تمائم (تعویذ گنڈوں) کا بیان۔
حدیث نمبر: 19611
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا هَارُونُ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ وَاقِعِ بْنِ سَحْبَانَ، عَنْ أَسِيرِ بْنِ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: مَنْ تَعَلَّقَ شَيْئًا وُكِلَ إِلَيْهِ.
(ا) اسید بن جابر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جو کوئی تعویذ لٹکاتا ہے اسی کے سپرد کر دیا جاتا ہے۔“
(ب) حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کوئی تعویذ لٹکائے وہ اسی کے سپرد کر دیا جاتا ہے۔“
(ج) سعید بن جبیر رحمہ اللہ اپنے بیٹوں کے لیے تعویذ لکھتے تھے۔
(د) راوی کہتے ہیں: میں نے عطاء رحمہ اللہ سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ تمہارے پاس سے آنے والی ہر چیز ہمیں اچھی نہیں لگتی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19611]
(ب) حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کوئی تعویذ لٹکائے وہ اسی کے سپرد کر دیا جاتا ہے۔“
(ج) سعید بن جبیر رحمہ اللہ اپنے بیٹوں کے لیے تعویذ لکھتے تھے۔
(د) راوی کہتے ہیں: میں نے عطاء رحمہ اللہ سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ تمہارے پاس سے آنے والی ہر چیز ہمیں اچھی نہیں لگتی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19611]
تخریج الحدیث: «حسن موقوف»
الحكم على الحديث: حسن موقوف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 19611 in Urdu