السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3892. -- باب: التمائم
-- باب: تمائم (تعویذ گنڈوں) کا بیان۔
حدیث نمبر: 19612
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ، أَنَّهُ سَأَلَ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ عَنِ الرُّقَى وَتَعْلِيقِ الْكُتُبِ، فَقَالَ: كَانَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ يَأْمُرُ بِتَعْلِيقِ الْقُرْآنِ وَقَالَ: لَا بَأْسَ بِهِ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَهَذَا كُلُّهُ يَرْجِعُ إِلَى مَا قُلْنَا مِنْ أَنَّهُ إِنْ رَقَى بِمَا لَا يُعْرَفُ أَوْ عَلَى مَا كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ مِنْ إِضَافَةِ الْعَافِيَةِ إِلَى الرُّقَى لَمْ يَجُزْ، وَإِنْ رَقَى بِكِتَابِ اللهِ أَوْ بِمَا يَعْرِفُ مِنْ ذِكْرِ اللهِ مُتَبَرِّكًا بِهِ وَهُوَ يَرَى نُزُولَ الشِّفَاءِ مِنَ اللهِ تَعَالَى فَلَا بَأْسَ بِهِ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
نافع بن یزید رحمہ اللہ نے یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ سے دم اور قرآنی تعویذ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: سعید بن مسیب رحمہ اللہ قرآنی تعویذ لٹکانے کا حکم دیتے اور فرماتے: اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
شیخ فرماتے ہیں: ایسا دم جس کے بارے میں علم نہ ہو یا جاہلیت کے دموں میں سے ہو وہ جائز نہیں، لیکن جو دم کتاب اللہ یا اللہ کے ذکر سے کیا جائے اور شفاء اللہ کی جانب سے ہے کا نظریہ رکھا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19612]
شیخ فرماتے ہیں: ایسا دم جس کے بارے میں علم نہ ہو یا جاہلیت کے دموں میں سے ہو وہ جائز نہیں، لیکن جو دم کتاب اللہ یا اللہ کے ذکر سے کیا جائے اور شفاء اللہ کی جانب سے ہے کا نظریہ رکھا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19612]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 19612 in Urdu