السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3893. -- باب: النشرة
-- باب: نشرہ (جادو کا توڑ کرنے) کا بیان۔
حدیث نمبر: Q19613
قَالَ أَبُو سُلَيْمَانَ: النُّشْرَةُ ضَرْبٌ مِنَ الرُّقْيَةِ وَالْعِلَاجِ يُعَالَجُ بِهِ مَنْ كَانَ يَظُنُّ مَسَّ الْجِنِّ، وَقِيلَ: سُمِّيَتْ نُشْرَةً لِأَنَّهُ يَنْشُرُهَا عَنْهُ، أَيْ يُحِلُّ عَنْهُ مَا خَامَرَهُ مِنَ الدَّاءِ..
ابو سلیمان (خطابی) رحمہ اللہ نے فرمایا: ”نُشرہ دم اور علاج کی ایک قسم ہے جس کے ذریعے اس شخص کا علاج کیا جاتا ہے جس کے بارے میں یہ گمان ہو کہ اسے جن کا اثر (آسیب) ہے، اور کہا گیا ہے کہ اسے نُشرہ اس لیے کہا جاتا ہے کہ (علاج کرنے والا) اس کے ذریعے اس سے (بیماری کو) کھول دیتا ہے، یعنی جو بیماری اس میں سرایت کر گئی ہو اسے اس سے دور کر دیتا ہے۔“... [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: Q19613]
حدیث نمبر: 19613
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ثنا عَقِيلُ بْنُ مَعْقِلٍ، قَالَ: سَمِعْتُ وَهْبَ بْنَ مُنَبِّهٍ يُحَدِّثُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ النُّشْرَةِ، فَقَالَ:" هُوَ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ". قَالَ الشَّيْخُ: وَرُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا، وَهُوَ مَعَ إِرْسَالِهِ أَصَحُّ، وَالْقَوْلُ فِيمَا يُكْرَهُ مِنَ النُّشْرَةِ وَفِيمَا لَا يُكْرَهُ كَالْقَوْلِ فِي الرُّقْيَةِ، وَقَدْ ذَكَرْنَاهُ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جنات کے دم کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ شیطانی عمل ہے۔“
شیخ فرماتے ہیں: جنات کے دم کے بارے میں جو دو قسم کے قول منقول ہیں وہ اسی طرح ہی ہیں جو عام دم کے بارے میں ہیں۔
یہ روایت نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل بھی مروی ہے، اور مرسل ہونے کے باوجود یہی زیادہ صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19613]
شیخ فرماتے ہیں: جنات کے دم کے بارے میں جو دو قسم کے قول منقول ہیں وہ اسی طرح ہی ہیں جو عام دم کے بارے میں ہیں۔
یہ روایت نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل بھی مروی ہے، اور مرسل ہونے کے باوجود یہی زیادہ صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19613]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 19613 in Urdu