السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3904. -- باب: ما يحل للمضطر من مال الغير
-- باب: مجبور شخص کے لیے دوسرے کے مال میں سے کیا حلال ہے۔
حدیث نمبر: 19664
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْمُنَادِي، ثنا عُمَرُ بْنُ عُثْمَانَ ابْنُ أَخِي عَلِيِّ بْنِ عَاصِمٍ، ثنا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي الْحَكَمِ الْغِفَارِيَّ يَقُولُ: حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي، عَنْ عَمِّ أَبِي رَافِعِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ، قَالَ: كُنْتُ وَأَنَا غُلَامٌ أَرْمِي نَخْلًا لِلْأَنْصَارِ، فَقِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ هَهُنَا غُلَامًا يَرْمِي نَخْلَنَا، قَالَ: قَالَ:" خُذُوهُ، فَأْتُونِي بِهِ"، قَالَ:" يَا غُلَامُ لِمَ تَرْمِي نَخْلَهُمْ؟"، قَالَ: إِنِّي أُرِيدُ أَنْ آكُلَ، قَالَ:" لَا تَرْمِ نَخْلَهُمْ، وَكُلْ مِمَّا فِي أُصُولِهَا"، قَالَ: وَمَسَحَ رَأْسَ الْغُلَامِ، وَقَالَ:" اللهُمَّ أَشْبِعْ بَطْنَهُ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ فِي السُّنَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ، وَعُثْمَانَ ابْنَيْ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ مُعْتَمِرٍ بِمَعْنَاهُ.
سیدنا رافع بن عمرو غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں بچپن میں انصار کی کھجوروں کو پتھر مارا کرتا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا گیا کہ یہاں ایک لڑکا ہماری کھجوروں کو پتھر مارتا ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے پکڑ کر میرے پاس لاؤ۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”اے بچے! تم ان کی کھجوروں کو پتھر کیوں مارتے ہو؟“ وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: کھانے کا ارادہ ہوتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پتھر نہ مارو بلکہ نیچے گرے ہوئے پھل کھا لیا کرو۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچے کے سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا: «اللَّهُمَّ أَشْبِعْ بَطْنَهُ» ”اے اللہ! اس کے پیٹ کو سیر کر دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19664]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 19664 in Urdu