السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3917. -- باب: ما لم يذكر تحريمه، ولا كان في معنى ما ذكر تحريمه مما يؤكل أو يشرب
-- باب: کھانے پینے کی ان اشیاء کا بیان جن کی حرمت کا ذکر نہیں آیا، اور نہ ہی وہ حرام کی گئی اشیاء کے معنی میں آتی ہیں۔
حدیث نمبر: 19724
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ الْغِفَارِيُّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا عَاصِمُ بْنُ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، رَفَعَ الْحَدِيثَ، قَالَ:" مَا أَحَلَّ اللهُ فِي كِتَابِهِ، فَهُوَ حَلَالٌ، وَمَا حَرَّمَ، فَهُوَ حَرَامٌ، وَمَا سَكَتَ عَنْهُ، فَهُوَ عَافِيَةٌ، فَاقْبَلُوا مِنَ اللهِ عَافِيَتَهُ، فَإِنَّ اللهَ لَمْ يَكُنْ نَسِيًّا"، ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ {وَمَا كَانَ رَبُّكَ نَسِيًّا} [مريم: ٦٤] .
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ مرفوع حدیث بیان فرماتے ہیں کہ: ”اللہ نے جو اپنی کتاب میں حلال یا حرام بیان کیا ہے وہی حلال یا حرام ہے اور جس پر خاموشی اختیار کی ہے، اس سے درگزر کیا ہے (یعنی رخصت ہے) تو تم اللہ کی رخصت کو قبول کرو اور وہ بھولا ہوا نہیں ہے۔“ پھر یہ آیت تلاوت کی: ﴿وَمَا كَانَ رَبُّكَ نَسِيًّا﴾ [سورة مریم: 64] ”تیرا رب بھولا ہوا نہیں ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الضحايا/حدیث: 19724]
تخریج الحدیث: «مريم ٦٤»
الحكم على الحديث: مريم ٦٤
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 19724 in Urdu