السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3941. -- باب: ما جاء في قوله: أقسم، أو أقسمت
-- باب: قسم کھانے والے کے یہ کہنے کے متعلق کیا مروی ہے: ”میں قسم کھاتا ہوں“ یا ”میں نے قسم کھائی“۔
حدیث نمبر: 19884
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ: أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ اللَّيْلَةَ ظُلَّةً يَنْطِفُ مِنْهَا السَّمْنُ وَالْعَسَلُ، فَأَرَى النَّاسَ يَتَكَفَّفُونَ فِي أَيْدِيهِمْ، فَالْمُسْتَكْثِرُ وَالْمُسْتَقِلُّ، وَأَرَى سَبَبًا وَاصِلًا مِنَ السَّمَاءِ إِلَى ⦗٦٨⦘ الْأَرْضِ، فَأَرَاكَ يَا رَسُولَ اللهِ أَخَذْتَ بِهِ، فَعَلَوْتَ، ثُمَّ أَخَذَ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَعَلَا، ثُمَّ أَخَذَ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَعَلَا، ثُمَّ أَخَذَ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَانْقَطَعَ بِهِ، ثُمَّ وُصِلَ لَهُ، فَعَلَا، قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَيْ رَسُولَ اللهِ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، وَاللهِ لَتَدَعَنِّي، فَلَأَعْبُرُهَا، فَقَالَ:" اعْبُرْهَا"، فَقَالَ: أَمَّا الظُّلَّةُ فَظُلَّةُ الْإِسْلَامِ، وَأَمَّا التَّنَطُّفُ مِنَ السَّمْنِ وَالْعَسَلِ، فَهُوَ الْقُرْآنُ، وَلِينُهُ وَحَلَاوَتُهُ، الْمُسْتَكْثِرُ وَالْمُسْتَقِلُّ، فَهُوَ الْمُسْتَكْثِرُ مِنَ الْقُرْآنِ، وَالْمُسْتَقِلُّ مِنْهُ، أَمَّا السَّبَبُ الْوَاصِلُ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ، فَهُوَ الْحَقُّ الَّذِي أَنْتَ عَلَيْهِ، تَأْخُذُ بِهِ، فَيُعْلِيكَ اللهُ، ثُمَّ يَأْخُذُ بِهِ بَعْدَكَ رَجُلٌ آخَرُ فَيَعْلُو بِهِ، ثُمَّ يَأْخُذُ به آخَرُ بَعْدَهُ، فَيَعْلُو بِهِ، ثُمَّ يَأْخُذُ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ، فَيُقْطَعُ بِهِ، ثُمَّ يُوصَلُ، فَيَعْلُو بِهِ، أَيْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَتُحَدِّثَنِّي أَصَبْتُ أَمْ أَخْطَأْتُ؟ قَالَ:" أَصَبْتَ بَعْضًا، وَأَخْطَأْتَ بَعْضًا"، قَالَ: أَقْسَمْتُ، بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللهِ، لَتُحَدِّثَنِّي بِالَّذِي أَخْطَأْتُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُقْسِمْ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: عَنْ عُبَيْدِ اللهِ أَحْيَانًا، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَأَحْيَانًا: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَكَمَا رَوَاهُ الرَّمَادِيُّ رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ، وَفَيَّاضُ بْنُ زُهَيْرٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ أَزْهَرَ، وَرَوَاهُ أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ فَقَالَ: كَانَ مَعْمَرٌ يَقُولُ مَرَّةً: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَمَرَّةً: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ، وَرَوَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ فَقَالَ: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا جَاءَ، وَرَوَاهُ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِي الْحَدِيثِ:" قَالَ: فَوَاللهِ يَا رَسُولَ اللهِ، لَتُخْبِرَنِّي بِالَّذِي أَخْطَأْتُ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: ”میں نے رات کو «الظُّلَّةُ» ”سائبان“ سے گھی اور شہد ٹپکتے ہوئے دیکھا ہے، میں نے لوگوں کو ہاتھ پھیلائے ہوئے دیکھا، کچھ زیادہ وصول کرتے ہیں اور کچھ کم، اور میں نے ایک رسی آسمان سے زمین کی طرف لٹکتی دیکھی، میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو پکڑا اور آسمان پر چڑھ گئے، پھر دوسرے آدمی نے اسے پکڑا وہ بھی اوپر چلا گیا، پھر تیسرے آدمی نے اسے پکڑی وہ بھی اوپر چلا گیا، پھر کسی اور نے رسی کو پکڑا لیکن وہ ٹوٹ گئی، لیکن رسی پھر درست ہوگئی وہ بھی چڑھ گیا“ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ عرض کرتے ہیں: ”اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! میں اس کی تعبیر کروں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تعبیر کرو۔“ انہوں نے عرض کیا: ” «الظُّلَّةُ» ”سائبان“ سے مراد اسلام ہے، اس سے گھی اور شہد کے ٹپکنے سے مراد قرآن، اس کی نرمی اور مٹھاس ہے، اور «الْمُسْتَكْثِرُ وَالْمُسْتَقِلُّ» ”زیادہ اور کم حاصل کرنے والوں“ سے مراد قرآن کو زیادہ سیکھنے والے اور کم سیکھنے والے ہیں، آسمان سے زمین کی طرف آنے والی رسی سے مراد «الْحَقُّ» ”حق“ ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر کاربند ہیں جس کی وجہ سے اللہ نے آپ کو غلبہ دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایک دوسرے آدمی نے اس حق کو لیا اور غلبہ حاصل کیا، پھر دوسرے نے اس کے ذریعے سے غلبہ حاصل کیا، پھر کسی دوسرے نے اس کو لیا تو رسی ٹوٹ جاتی ہے، پھر آخرِ کار وہ جڑ جاتی ہے جس کی وجہ سے وہ غلبہ پاتے ہیں۔ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ بیان کریں میں نے درست کہا یا غلط؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بعض درست اور بعض غلط۔“ انہوں نے کہا: ”میں نے قسم کھائی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میری غلطی کو بیان کریں“ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم نہ کھاؤ۔“
(ب) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک آدمی آیا، حدیث میں ہے کہ: ”میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قسم ڈالتا ہوں۔“
(ج) امام ابن شہاب زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے کہا: ”اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میری غلطی کی مجھے خبر دیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأيمان/حدیث: 19884]
(ب) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک آدمی آیا، حدیث میں ہے کہ: ”میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قسم ڈالتا ہوں۔“
(ج) امام ابن شہاب زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے کہا: ”اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میری غلطی کی مجھے خبر دیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأيمان/حدیث: 19884]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 19884 in Urdu