السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3941. -- باب: ما جاء في قوله: أقسم، أو أقسمت
-- باب: قسم کھانے والے کے یہ کہنے کے متعلق کیا مروی ہے: ”میں قسم کھاتا ہوں“ یا ”میں نے قسم کھائی“۔
حدیث نمبر: 19885
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ⦗٦٩⦘ الصَّفَّارُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ يُونُسَ، ح، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا كَانَ يُحَدِّثُ: أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي أَرَى اللَّيْلَةَ فِي الْمَنَامِ ظُلَّةً تَنْطِفُ السَّمْنَ وَالْعَسَلَ، فَأَرَى النَّاسَ يَتَكَفَّفُونَ مِنْهَا بِأَيْدِيهِمْ فَالْمُسْتَكْثِرُ، وَالْمُسْتَقِلُّ، وَأَرَى سَبَبًا وَاصِلًا مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ، فَأَرَاكَ أَخَذْتَ بِهِ فَعَلَوْتَ، ثُمَّ أَخَذَ بِهِ رَجُلٌ مِنْ بَعْدِكَ فَعَلَا، ثُمَّ أَخَذَ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَعَلَا، ثُمَّ أَخَذَ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ، فَانْقَطَعَ بِهِ، ثُمَّ وُصِلَ لَهُ فَعَلَا، قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: يَا رَسُولَ اللهِ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، لَتَدَعَنِّي فَلَأَعْبُرَنَّهُ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اعْبُرْ" قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَمَّا الظُّلَّةُ: فَظُلَّةُ الْإِسْلَامِ، وَأَمَّا الَّذِي يَنْطِفُ مِنَ السَّمْنِ وَالْعَسَلِ: فَالْقُرْآنُ، حَلَاوَتُهُ وَلِينُهُ، وَأَمَّا مَا يَتَكَفَّفُ النَّاسُ مِنْ ذَلِكَ: فَالْمُسْتَكْثِرُ مِنَ الْقُرْآنِ وَالْمُسْتَقِلُّ، وَأَمَّا السَّبَبُ الْوَاصِلُ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ: فَالْحَقُ الَّذِي أَنْتَ عَلَيْهِ، تَأْخُذُ بِهِ، فَيُعْلِيكَ اللهُ، ثُمَّ يَأْخُذُ بِهِ رَجُلٌ بَعْدَكَ فَيَعْلُو بِهِ، ثُمَّ يَأْخُذُ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ، فَيَعْلُو بِهِ، ثُمَّ يَأْخُذُ بِهِ رَجُلُ آخَرُ، فَيَعْلُو بِهِ، فَيَنْقَطِعُ بِهِ، ثُمَّ يُوصَلُ لَهُ، فَيَعْلُو بِهِ، فَأَخْبِرْنِي يَا رَسُولَ اللهِ - بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي - أَصَبْتُ أَوْ أَخْطَأْتُ؟ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَصَبْتَ بَعْضًا، وَأَخْطَأْتَ بَعْضًا"، قَالَ: فَوَاللهِ لَتُخْبِرَنِّي بِالَّذِي أَخْطَأْتُ، قَالَ:" لَا تُقْسِمْ"، لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ وَهْبٍ، وَفِي حَدِيثِ اللَّيْثِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي رَأَيْتُ اللَّيْلَةَ فِي الْمَنَامِ، وَقَالَ: وَإِذَا سَبَبٌ وَاصِلٌ مِنَ الْأَرْضِ إِلَى السَّمَاءِ، وَأَرَاكَ أَخَذْتَ بِهِ فَعَلَوْتَ، وَالْبَاقِي مِثْلُ حَدِيثِ ابْنِ وَهْبٍ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ حَرْمَلَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ الْبُخَارِيُّ: تَابَعَهُ سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، وَابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ، وَسُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ الزُّبَيْدِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ الزُّبَيْدِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، وَأَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الشَّيْخُ: وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: وَاللهِ، يَا رَسُولَ اللهِ.
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک آدمی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے خواب میں دیکھا ایک سائبان سے گھی اور شہد ٹپک رہا تھا، میں نے دیکھا: لوگ اپنے ہاتھ پھیلائے ہوئے کوئی زیادہ یا کم حاصل کر رہا تھا اور ایک رسی آسمان سے زمین کی طرف لٹک رہی تھی، میں نے دیکھا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رسی کو پکڑا اور اوپر چڑھ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد دوسرے آدمی نے رسی کو پکڑا اور اوپر چڑھ گئے۔ اس کے بعد تیسرے آدمی نے رسی کو پکڑا اور اوپر چڑھ گیا۔ پھر چوتھے آدمی نے رسی کو پکڑا تو وہ ٹوٹ گئی۔ پھر جوڑ دی گئی وہ اوپر چڑھ گیا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں اس خواب کی تعبیر کرتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تعبیر کرو۔“ ابوبکر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سائبان سے مراد اسلام کا سائبان ہے، گھی اور شہد کا اس سے ٹپکنا اس سے مراد قرآن کی مٹھاس اور نرمی ہے اور لوگوں کے ہاتھ پھیلانے سے مراد قرآن کی تعلیم کم یا زیادہ حاصل کرنا ہے۔ رسی کے آسمان سے زمین کی طرف لٹکنے سے مراد حق ہے جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی وجہ سے اللہ نے غلبہ یا سربلندی عطا کی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد دوسرے آدمی نے اس حق کو لیا اللہ نے اس کو بھی غلبہ دیا۔ پھر تیسرے آدمی نے بھی اس کے ساتھ غلبہ حاصل کیا۔ پھر چوتھے آدمی نے اوپر چڑھنے کی کوشش کی تو یہ رسی ٹوٹ گئی۔ پھر وہ رسی درست کر دی گئی تو وہ چڑھ گیا۔ اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان میں نے درست کہا یا غلطی کی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے خبر دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بعض درست اور بعض غلط۔“ ابوبکر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اللہ کی قسم! آپ مجھے میری غلطی کی خبر دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم نہ ڈالو۔“
(ب) لیث کی حدیث میں ہے کہ اے اللہ کے رسول! میں نے رات کو خواب میں دیکھا کہ ایک رسی زمین سے آسمان تک تھی۔ میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ پکڑ کر اوپر چڑھ گئے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأيمان/حدیث: 19885]
(ب) لیث کی حدیث میں ہے کہ اے اللہ کے رسول! میں نے رات کو خواب میں دیکھا کہ ایک رسی زمین سے آسمان تک تھی۔ میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ پکڑ کر اوپر چڑھ گئے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأيمان/حدیث: 19885]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 19885 in Urdu