السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3979. -- باب: ما جاء فيمن نذر أن يذبح ابنه، أو نفسه
-- باب: اس شخص کے متعلق کیا مروی ہے جس نے اپنے بیٹے یا خود اپنے آپ کو ذبح کرنے کی نذر مانی۔
حدیث نمبر: 20081
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا:" إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَنْحَرَ ابْنِي" فَأَمَرَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا بِكَبْشٍ وَقَالَ {لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ} [الأحزاب: ٢١] " كَذَا وَجَدْتُهُ فِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ.
ابن جریج رحمہ اللہ حضرت عطاء رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: ”میں نے اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کی نذر مانی ہے“، تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ایک مینڈھا ذبح کرنے کا حکم دے دیا۔ فرماتے ہیں: ﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ﴾ [سورة الأحزاب: 21] ”تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اچھا نمونہ ہے۔“
اس روایت میں میں نے اسی طرح پایا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأيمان/حدیث: 20081]
اس روایت میں میں نے اسی طرح پایا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأيمان/حدیث: 20081]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 20081 in Urdu