السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3979. -- باب: ما جاء فيمن نذر أن يذبح ابنه، أو نفسه
-- باب: اس شخص کے متعلق کیا مروی ہے جس نے اپنے بیٹے یا خود اپنے آپ کو ذبح کرنے کی نذر مانی۔
حدیث نمبر: 20082
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الطَّبَرَانِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فِي رَجُلٍ نَذَرَ أَنْ يَذْبَحَ نَفْسَهُ، قَالَ: {لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أُسْوَةٌ} [الأحزاب: ٢١] حَسَنَةٌ فَأَفْتَاهُ بِكَبْشٍ". هَذَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّ رِوَايَةَ عُثْمَانَ بْنِ عُمَرَ خَطَأٌ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ غَيْرُ سُفْيَانَ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ.
عطاء رحمہ اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے اس آدمی کے بارے میں جس نے اپنے آپ کو ذبح کرنے کی نذر مانی کہ ﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ﴾ [سورة الأحزاب: 21] ”تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اچھا نمونہ ہے۔“ تو انہوں نے ایک مینڈھے کا فتویٰ دیا۔
یہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ عثمان بن عمر کی روایت غلط ہے، اور سفیان کے علاوہ دوسروں نے بھی ابن جریج سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأيمان/حدیث: 20082]
یہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ عثمان بن عمر کی روایت غلط ہے، اور سفیان کے علاوہ دوسروں نے بھی ابن جریج سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الأيمان/حدیث: 20082]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 20082 in Urdu