🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3996. -- باب: من قال: لله علي أن أصوم يوما سماه، فوافق يوم فطر أو أضحى
-- باب: اس شخص کا بیان جس نے کہا: ”مجھ پر اللہ کے لیے ایک متعین دن کا روزہ رکھنا لازم ہے“، پھر وہ دن عید الفطر یا عید الاضحی کا دن نکل آیا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20144
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنبأ يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَصُومَ كُلَّ ثُلَاثَاءَ أَوْ أَرْبِعَاءَ مَا عِشْتُ، فَإِنْ وَافَقْتُ هَذَا الْيَوْمَ يَوْمَ نَحْرٍ؟ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا:" إِنَّهُ قَدْ أَمَرَ اللهُ بِوَفَاءِ النَّذْرِ، وَنُهِينَا أَنْ نَصُومَ هَذَا الْيَوْمَ" قَالَ: فَخُيِّلَ إِلَى الرَّجُلِ أَنَّهُ لَمْ يَفْهَمْ، فَأَعَادَ عَلَيْهِ الْكَلَامَ الثَّانِيَةَ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا:" قَدْ أَمَرَ اللهُ بِوَفَاءِ النَّذْرِ، وَنُهِينَا عَنْ صِيَامِ هَذَا الْيَوْمِ"، قَالَ يُونُسُ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلْحَسَنِ فَقَالَ:" يَصُومُ يَوْمًا مَكَانَهُ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْقَعْنَبِيِّ عَنْ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ دُونَ قَوْلِ الْحَسَنِ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ زِيَادِ بْنِ جُبَيْرٍ.
زیاد بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس تھا۔ ان کے پاس ایک آدمی آیا اور کہا: ”میں نے نذر مانی ہے کہ جب تک میں زندہ رہوں گا ہر منگل یا بدھ کا روزہ رکھوں گا، اگر یہ دن قربانی کے دن (عید الاضحیٰ) کے موافق آ جائے تو؟“ ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اللہ نے نذر پوری کرنے کا حکم دیا ہے، لیکن اس دن روزہ رکھنے سے بھی منع فرمایا ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ آدمی کے خیال کے مطابق کہ وہ ان کی بات سمجھ نہیں سکے، دوسری مرتبہ کلام کو دہرایا تو ابن عمر رضی اللہ عنہما فرمانے لگے: ”اللہ نے نذر پوری کرنے کا حکم دیا ہے اور اس دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔“
(ب) یونس رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے اس کا تذکرہ کیا، حضرت حسن رحمہ اللہ سے پوچھا گیا تو کہنے لگے: ”وہ اس کی جگہ کسی اور دن روزہ رکھ لے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النذور/حدیث: 20144]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 20144 in Urdu