السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4004. -- باب: كراهية الإمارة، وكراهية تولي أعمالها لمن رأى من نفسه ضعفا، أو رأى فرضها عنه بغيره ساقطا
-- باب: امارت (حکمرانی) کی کراہت، اور جو شخص اپنے اندر کمزوری محسوس کرے یا دیکھے کہ کسی دوسرے کے ذریعے اس پر سے یہ فرض ساقط ہو رہا ہے، تو اس کے لیے اس کی ذمہ داریاں سنبھالنے کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر: 20233
أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ الْبَزَّازُ الْكِسَائِيُّ الْمِصْرِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا أَبُو عِيسَى عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْعَرُوضِيُّ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ الطَّحَاوِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا جَعْفَرٍ مُحَمَّدَ بْنَ الْعَبَّاسِ، يَقُولُ:" لَمَّا وُلِّيَ مُحَارِبُ بْنُ دِثَارٍ الْقَضَاءَ، قِيلَ ⦗١٦٨⦘ لِلْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ: أَلَا تَأْتِيهِ؟ قَالَ:" وَاللهِ مَا نَالَ عِنْدِي غَنِيمَةً فَأُهَنِّيَهُ عَلَيْهَا، وَلَا أُصِيبَ عِنْدَ نَفْسِهِ بِمُصِيبَةٍ فَأُعَزِّيَهُ عَلَيْهَا، وَمَا كُنْتُ زَوَّارًا لَهُ قَبْلَ الْيَوْمِ، فَأَزُورُهُ الْيَوْمَ؟".
ابو جعفر طحاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابو جعفر محمد بن عباس رحمہ اللہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: جب محارب بن دثار رحمہ اللہ قاضی بنے تو حکم بن عتیبہ رحمہ اللہ سے کہا گیا: آپ ان کے پاس کیوں نہیں جاتے؟ کہنے لگے: اللہ کی قسم! میرے نزدیک اس نے مال تو حاصل نہیں کیا کہ میں اس کو مبارک باد دوں اور نہ کوئی مصیبت آئی کہ میں اس پر تعزیت کروں۔ اس سے پہلے میں ان کی زیارت نہ کرتا تھا کہ آج زیارت کے لیے جاؤں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب آداب القاضي/حدیث: 20233]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 20233 in Urdu