السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4084. -- باب: : من رد شهادة الصبيان ومن قبلها في الجراح ما لم يتفرقوا
-- باب: جس نے بچوں کی گواہی رد کی اور جس نے زخمی کرنے کے معاملے میں ان کی گواہی اس وقت تک قبول کی جب تک وہ منتشر نہ ہوئے ہوں۔
حدیث نمبر: Q20609
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: قَوْلُ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: {مِنْ رِجَالِكُمْ} [البقرة: 282] يَدُلُّ عَلَى أَنْ لَا تَجُوزَ شَهَادَةُ الصِّبْيَانِ وَاللهُ أَعْلَمُ فِي شَيْءٍ، ولِأَنَّهُ إِنَّمَا خُوطِبَ بِالْفَرَائِضِ الْبَالِغُونَ دُونَ مَنْ لَمْ يَبْلُغْ، وَلِأَنَّهُمْ لَيْسُوا مِمَّنْ يُرْضَى مِنَ الشُّهَدَاءِ، وَإِنَّمَا أَمَرَنَا اللهُ أَنْ نَقْبَلَ شَهَادَةَ مَنْ نَرْضَى" قَالَ الشَّيْخُ:" وَقَدْ رُوِّينَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَةٍ: عَنِ الصَّبِيِّ حَتَّى يَحْتَلِمَ، وَعَنِ الْمَعْتُوهِ حَتَّى يُفِيقَ، وَعَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ، قَالَ الشَّافِعِيُّ: فَإِنْ قَالَ قَائِلٌ: أَجَازَهَا ابْنُ الزُّبَيْرِ، فَابْنُ عَبَّاسٍ رَدَّهَا"..
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اللہ عزوجل کا فرمان: ﴿مِنْ رِجَالِكُمْ﴾ ”تمہارے مردوں میں سے“ [سورة البقرة: 282] اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ، واللہ اعلم، بچوں کی گواہی کسی بھی معاملے میں جائز نہیں، اور اس لیے بھی کہ فرائض کا مخاطب صرف بالغ لوگوں کو بنایا گیا ہے نہ کہ نابالغوں کو، اور اس لیے بھی کہ وہ ان گواہوں میں سے نہیں جنہیں پسند کیا جاتا ہے، اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں صرف انہی کی گواہی قبول کرنے کا حکم دیا ہے جنہیں ہم پسند کریں۔“
شیخ (امام بیہقی) رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت پہنچی ہے کہ: تین آدمیوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے: بچے سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے، اور دیوانے سے یہاں تک کہ اسے افاقہ ہو جائے، اور سونے والے سے یہاں تک کہ وہ بیدار ہو جائے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”پھر اگر کوئی کہنے والا کہے کہ سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے اسے (بچوں کی گواہی کو) جائز قرار دیا ہے، تو (جواب یہ ہے کہ) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اسے رد کر دیا ہے...“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: Q20609]
شیخ (امام بیہقی) رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت پہنچی ہے کہ: تین آدمیوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے: بچے سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے، اور دیوانے سے یہاں تک کہ اسے افاقہ ہو جائے، اور سونے والے سے یہاں تک کہ وہ بیدار ہو جائے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”پھر اگر کوئی کہنے والا کہے کہ سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے اسے (بچوں کی گواہی کو) جائز قرار دیا ہے، تو (جواب یہ ہے کہ) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اسے رد کر دیا ہے...“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: Q20609]
حدیث نمبر: 20609
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي شَهَادَةِ الصِّبْيَانِ:" لَا تَجُوزُ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ بچوں کی گواہی جائز نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20609]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 20609 in Urdu