السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4112. -- باب: : من قال: لا تجوز شهادة الوالد لولده، والولد لوالديه
-- باب: جس نے کہا: ”والد کی اپنی اولاد کے حق میں اور اولاد کی اپنے والدین کے حق میں گواہی جائز نہیں ہے“۔
حدیث نمبر: 20864
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو عُثْمَانَ سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدَانَ النَّيْسَابُورِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرِّبَاطِيُّ، فِي رَجَبٍ سَنَةَ سِتٍّ وَسِتِّينَ وَمِائَتَيْنِ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى أَبِي عُبَيْدٍ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، ثنا مَرْوَانُ الْفَزَارِيُّ، عَنْ شَيْخٍ مِنْ أَهْلِ الْجَزِيرَةِ يُقَالُ لَهُ يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" لَا تَجُوزُ شَهَادَةُ خَائِنٍ وَلَا خَائِنَةٍ وَلَا ذِي غِمْرٍ عَلَى أَخِيهِ، وَلَا ظَنِينٍ فِي وَلَاءٍ، وَلَا قَرَابَةٍ، وَلَا الْقَانِعِ مَعَ أَهْلِ الْبَيْتِ لَهُمْ" ⦗٣٤١⦘ لَفْظُ حَدِيثِ عَلِيٍّ، وَفِي رِوَايَةِ الرِّبَاطِيِّ:" وَلَا ظَنِينٍ، وَلَا مُتَّهَمٍ بِقَرَابَةٍ". وَالْأَوَّلُ أَصَحُّ، يَزِيدُ هَذَا ضَعِيفٌ.
ابراہیم بن محمد رباطی رجب 266ھ کو بیان کرتے ہیں کہ ابوعبید پر پڑھا گیا۔
(ب) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خائن مرد اور خائنہ عورت، اپنے بھائی کے خلاف کینہ رکھنے والے، نسبت اور رشتہ داری میں تہمت لگانے والے اور خادم کی آقا کے حق میں گواہی قبول نہ کی جائے گی۔“
یہ علی کی روایت کے الفاظ ہیں، اور رباطی کی روایت میں ہے: ”اور نہ متہم کی، اور نہ رشتہ داری کی وجہ سے متہم کی۔“ پہلی روایت زیادہ صحیح ہے، اور یہ یزید ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20864]
(ب) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خائن مرد اور خائنہ عورت، اپنے بھائی کے خلاف کینہ رکھنے والے، نسبت اور رشتہ داری میں تہمت لگانے والے اور خادم کی آقا کے حق میں گواہی قبول نہ کی جائے گی۔“
یہ علی کی روایت کے الفاظ ہیں، اور رباطی کی روایت میں ہے: ”اور نہ متہم کی، اور نہ رشتہ داری کی وجہ سے متہم کی۔“ پہلی روایت زیادہ صحیح ہے، اور یہ یزید ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20864]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 20864 in Urdu