السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4122. -- باب: : من كره كل ما لعب الناس به من الحزة، وهي قطعة خشب يكون فيها حفر يلعبون بها والقرق ونحوها
-- باب: جس نے لوگوں کے کھیلے جانے والے ہر کھیل کو مکروہ قرار دیا جیسے حزہ، اور وہ لکڑی کا ایک ٹکڑا ہے جس میں گڑھے ہوتے ہیں جس سے وہ کھیلتے ہیں، اور قرق (ایک قسم کا کھیل) اور اس طرح کے دیگر کھیل۔
حدیث نمبر: 20971
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، عَنْ بَسَّامِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الصَّيْرَفِيِّ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا جَعْفَرٍ عَنِ النَّرْدَشِيرِ، فَكَرِهَهُ وَقَالَ:" كَانَ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ يُلَاعِبُ أَهْلَهُ بِالشَّهْارَدَةِ". قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ:" وَإِنْ غَفَلَ بِهِ عَنِ الصَّلَاةِ فَأَكْثَرَ حَتَّى تَفُوتَهُ ثُمَّ يَعُودَ لَهُ حَتَّى تَفُوتَهُ رَدَدْنَا شَهَادَتَهُ عَلَى الِاسْتِخْفَافِ بِمَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ".
بسام بن عبداللہ صیرفی کہتے ہیں کہ میں نے ابو جعفر رحمہ اللہ سے نرد شیر کے بارے میں پوچھا تو وہ اس کو ناپسند کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ علی بن حسین رحمہ اللہ اپنے گھر والوں کے ساتھ شہاردہ سے کھیلا کرتے تھے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر اس کی وجہ سے غفلت زیادہ ہو جائے اور نماز کا وقت چلا جائے تو اس کی شہادت نماز کو حقیر سمجھنے کی وجہ سے رد کی جائے گی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20971]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر اس کی وجہ سے غفلت زیادہ ہو جائے اور نماز کا وقت چلا جائے تو اس کی شہادت نماز کو حقیر سمجھنے کی وجہ سے رد کی جائے گی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20971]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 20971 in Urdu