🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
4123. -- باب: : ما لا ينهى عنه من اللعب
-- باب: وہ کھیل جن سے منع نہیں کیا گیا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20977
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أنبأ عَمْرٌو، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَهُ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدِي جَارِيَتَانِ تُغَنِّيَانِ بِغِنَاءِ بُعَاثٍ، فَاضْطَجَعَ عَلَى الْفِرَاشِ وَحَوَّلَ وَجْهَهُ، وَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَانْتَهَرَنِي وَقَالَ: مِزْمَارَةُ الشَّيْطَانِ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" دَعْهُمَا"، فَلَمَّا غَفَلَ غَمَزْتُهُمَا فَخَرَجَتَا، وَقَالَتْ: كَانَ يَوْمُ عِيدٍ يَلْعَبُ السُّودَانُ بِالدَّرَقِ وَالْحِرَابِ، فَإِمَّا سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِمَّا قَالَ:" تَشْتَهِينَ تَنْظُرِينَ؟"، فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَأَقَامَنِي وَرَاءَهُ، خَدِّي عَلَى خَدِّهِ، وَهُوَ يَقُولُ:" دُونَكُمْ يَا بَنِي أَرْفِدَةَ"، حَتَّى إِذَا مَلَلْتُ قَالَ:" حَسْبُكِ؟"، قُلْتُ، نَعَمْ، قَالَ:" اذْهَبِي" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ هَارُونَ بْنِ سَعِيدٍ، وَيُونُسَ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى، كُلُّهُمْ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.
عروہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے اور میرے پاس دو بچیاں گانے والی تھیں، جو جنگِ بعاث کے متعلق اشعار پڑھ رہی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لیٹ گئے اور چہرہ پھیر لیا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے، انہوں نے مجھے ڈانٹا اور کہا: یہ شیطانی ساز ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس! تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”ان دونوں کو چھوڑ دو۔“ جب وہ غافل ہوئے تو میں نے چپکے سے دونوں کو نکال دیا۔ فرماتی ہیں: جب عید کا دن تھا اس دن سودانی ڈھالوں اور نیزوں سے کھیل رہے تھے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم دیکھنا چاہتی ہو؟“ میں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے پیچھے کھڑا کر لیا، میرا رخسار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رخسار پر تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”اے بنو ارفدہ! کھیلتے رہو۔“ یہاں تک کہ میں تھک گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کافی ہے؟“ میں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20977]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 20977 in Urdu