السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4123. -- باب: : ما لا ينهى عنه من اللعب
-- باب: وہ کھیل جن سے منع نہیں کیا گیا۔
حدیث نمبر: 20978
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَعْدٍ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عِيَاضٍ الْأَشْعَرِيِّ، أَنَّهُ شَهِدَ عِيدًا بِالْأَنْبَارِ فَقَالَ:" مَا لِي لَا أَرَاكُمْ تُقَلِّسُونَ؟ كَانُوا فِي زَمَانِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُونَهُ". قَالَ يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ: التَّقْلِيسُ أَنْ تَقْعُدَ الْجَوَارِي وَالصِّبْيَانُ عَلَى أَفْوَاهِ الطُّرُقِ يَلْعَبُونَ بِالطَّبْلِ وَغَيْرِ ذَلِكَ" قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَرَوَاهُ هُشَيْمٌ، عَنِ الْمُغِيرَةِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: فَإِنَّهُ مِنَ السُّنَّةِ فِي الْعِيدَيْنِ، يَعْنِي ضَرْبَ الدُّفِّ عِنْدَ الِانْصِرَافِ، وَرَوَاهُ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ شَرِيكٍ فَقَالَ: زِيَادُ بْنُ عِيَاضٍ الْأَشْعَرِيُّ.
عامر شعبی حضرت عیاض اشعری رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ انبار میں عید کے دن حاضر ہوئے۔ فرمانے لگے: تم کھیلتے کیوں نہیں؟ حالانکہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں کھیلا کرتے تھے۔ یوسف بن عدی فرماتے ہیں کہ «التَّقْلِيسُ» کا یہ معنی ہے کہ بچیاں اور بچے راستوں پر بیٹھ کر طبل سے کھیلا کرتے تھے۔
شیخ فرماتے ہیں: اسے ہشیم نے مغیرہ سے روایت کیا ہے، البتہ انہوں نے کہا: ”کیونکہ یہ دونوں عیدوں میں سنت ہے“ یعنی (عید سے) واپسی کے وقت دف بجانا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20978]
شیخ فرماتے ہیں: اسے ہشیم نے مغیرہ سے روایت کیا ہے، البتہ انہوں نے کہا: ”کیونکہ یہ دونوں عیدوں میں سنت ہے“ یعنی (عید سے) واپسی کے وقت دف بجانا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20978]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 20978 in Urdu