السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4123. -- باب: : ما لا ينهى عنه من اللعب
-- باب: وہ کھیل جن سے منع نہیں کیا گیا۔
حدیث نمبر: 20979
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْهَرَوِيُّ، بِسَافِرِيَّةَ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شَيْبَانُ، وَإِسْرَائِيلُ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ:" مَا كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا وَقَدْ رَأَيْتُهُ يُعْمَلُ بَعْدَهُ، إِلَّا شَيْءٌ وَاحِدٌ، كَانَ يُقَلَّسُ لَهُ يَوْمَ الْفِطْرِ". وَرَوَاهُ عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ إِسْرَائِيلَ قَالَ:" كَانَ يُقَلَّسُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْعِيدِ" وَالتَّقْلِيسُ: اللَّعِبُ.
سیدنا قیس بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں جو کچھ ہوتا تھا میں نے اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی ہوتے دیکھا ہے، سوائے ایک چیز کے: عید الفطر کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھیل (تقلیس) ہوا کرتا تھا۔
(ب) عمرو بن محمد، اسرائیل سے نقل فرماتے ہیں کہ عید کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھیل پیش کیا جاتا تھا اور «التَّقْلِيسُ» کھیل ہی کو کہتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20979]
(ب) عمرو بن محمد، اسرائیل سے نقل فرماتے ہیں کہ عید کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھیل پیش کیا جاتا تھا اور «التَّقْلِيسُ» کھیل ہی کو کہتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 20979]
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 20979 in Urdu