🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
4135. -- باب: : شهادة أهل العصبية
-- باب: عصبیت (قوم پرستی یا تعصب) رکھنے والوں کی گواہی کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21095
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ، ⦗٤٠٠⦘ عَنْ بُسْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ عَائِذِ اللهِ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ أَقْبَلِ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ آخِذًا بِطَرَفِ ثَوْبِهِ حَتَّى أَبْدَى عَنْ رُكْبَتَيْهِ، فَقَالَ:" أَمَّا صَاحِبُكُمْ هَذَا فَقَدْ غَامَرَ"، فَسَلَّمَ وَقَالَ: إِنَّهُ كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ شَيْءٌ، فَأَسْرَعْتُ إِلَيْهِ، ثُمَّ ذَهَبَ، فَسَأَلْتُهُ أَنْ يَغْفِرَ لِي، فَأَبَى عَلَيَّ، وَتَحَرَّزَ مِنِّي بِدَارِهِ، فَأَقْبَلْتُ إِلَيْكَ، فَقَالَ:" يَغْفِرُ اللهُ لَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ"، ثَلَاثًا، ثُمَّ إِنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ نَدِمَ، فَأَتَى مَنْزِلَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَسَأَلَ: أَثَمَّ أَبُو بَكْرٍ؟ فَقَالُوا: لَا، فَأَقْبَلَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ وَجْهُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَمَعَّرُ حَتَّى أَشْفَقَ أَبُو بَكْرٍ، فَجَثَا عَلَى رُكْبَتَيْهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَنَا وَاللهِ كُنْتُ أَظْلَمَ، مَرَّتَيْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ اللهَ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى بَعَثَنِي إِلَيْكُمْ، فَقُلْتُمْ: كَذَبْتَ، وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: صَدَقْتَ، وَوَاسَانِي بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ، فَهَلْ أَنْتُمْ تَارِكُونَ لِي صَاحِبِي؟"، قَالَهَا مَرَّتَيْنِ، فَمَا أُوذِيَ بَعْدَهَا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ هِشَامِ بْنِ عَمَّارٍ.
سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آئے تو وہ اپنے کپڑے کی ایک طرف پکڑے ہوئے تھے اور ان کے گھٹنے ظاہر ہو رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے اس صاحب کو کسی پریشانی نے گھیر رکھا ہے۔“ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سلام کیا اور کہنے لگے: میرے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے درمیان تنازع ہو گیا، میں نے جلد بازی کی۔ پھر وہ چلے گئے۔ میں نے ان سے معافی کا سوال کیا، لیکن انہوں نے انکار کر دیا اور مجھ سے بچتے ہوئے گھر چلے گئے، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گیا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا: ”اللہ ابوبکر کی مغفرت فرمائے۔“ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نادم ہوئے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے گھر آ کر پوچھا: کیا ابوبکر یہاں ہیں؟ گھر والوں نے کہا: نہیں۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ متغیر ہونے لگا، یہاں تک کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو ڈر محسوس ہوا تو وہ اپنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے۔ دو مرتبہ کہنے لگے: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ کی قسم! زیادتی مجھ ہی سے ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے لوگو! اللہ نے مجھے تمہاری طرف مبعوث کیا ہے، تم نے کہا: جھوٹ کہتے ہو اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ نے سچ کہا اور اپنے مال و جان سے میری مدد کی۔ کیا تم میرے ساتھی کو چھوڑتے نہیں ہو؟“ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ فرمائی۔ اس کے بعد انہیں (کبھی) تکلیف نہیں دی گئی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 21095]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 3661»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 21095 in Urdu