السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4135. -- باب: : شهادة أهل العصبية
-- باب: عصبیت (قوم پرستی یا تعصب) رکھنے والوں کی گواہی کا بیان۔
حدیث نمبر: 21096
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَعَلَ رَجُلٌ يَشْتِمُ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ، فَجَعَلَ يَعْجَبُ وَيَتَبَسَّمُ، فَلَمَّا أَكْثَرَ ذَلِكَ رَدَّ عَلَيْهِ أَبُو بَكْرٍ بَعْضَ قَوْلِهِ، فَغَضِبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَامَ، فَلَحِقَهُ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، كَانَ يَشْتُمُنِي وَأَنْتَ جَالِسٌ، فَلَمَّا رَدَدْتُ عَلَيْهِ بَعْضَ قَوْلِهِ غَضِبْتَ وَقُمْتَ قَالَ:" فَإِنَّهُ كَانَ مَعَكَ مَنْ يَرُدُّ عَنْكَ، فَلَمَّا رَدَدْتَ عَلَيْهِ قَعَدَ الشَّيْطَانُ، فَلَمْ أَكُنْ لِأَقْعُدَ مَعَ الشَّيْطَانِ"، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أَبَا بَكْرٍ مَا مِنْ عَبْدٍ ظُلِمَ مَظْلِمَةً فَيُغْضِي عَنْهَا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، إِلَّا أَعَزَّ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا نَصْرَهُ". رَوَاهُ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ بَشِيرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قِصَّةِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مُرْسَلًا دُونَ مَا فِي آخِرِهِ مِنَ التَّرْغِيبِ فِي الْإِغْضَاءِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو گالیاں دے رہا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تعجب فرما رہے تھے اور مسکرا رہے تھے۔ جب اس نے زیادہ باتیں کیں تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہو گئے اور اٹھ کھڑے ہوئے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے) پیچھے چلے اور کہنے لگے: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ مجھے گالیاں دے رہا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے رہے، جب میں نے اس کا جواب دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہو گئے اور اٹھ کھڑے ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے ساتھ وہ (فرشتہ) تھا جو اس کا جواب دے رہا تھا، جب تو نے جواب دیا تو شیطان بیٹھ گیا، اور میں شیطان کے ساتھ نہیں بیٹھتا۔“ پھر فرمایا: ”اے ابوبکر! کسی بندے پر ظلم نہیں کیا جاتا لیکن وہ اس کو اللہ کی رضا کے لیے برداشت کرتا ہے تو اللہ اس کی مدد کر کے اسے عزت بخشتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 21096]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 21096 in Urdu