السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4138. -- باب: : ما جاء في إعطاء الشعراء
-- باب: شعراء کو عطیات دینے کے بارے میں وارد شدہ احکام کا بیان۔
حدیث نمبر: 21130
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّ شَاعِرًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا بِلَالُ، اقْطَعْ عَنِّي لِسَانَهُ"، فَأَعْطَاهُ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا وَحُلَّةً، قَالَ: قُطِعَتْ وَاللهِ لِسَانِي، قُطِعَتْ وَاللهِ لِسَانِي. هَذَا مُنْقَطِعٌ، وَرُوِيَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عُمَرَ، وَمَوْصُولًا بِذِكْرِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَلَيْسَ بِمَحْفُوظٍ.
حضرت عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شاعر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”میری جانب سے اس کی زبان کو خاموش کرواؤ۔“ تو انہوں نے اسے 40 درہم اور ایک حلہ دیا۔ وہ (شاعر) کہنے لگا: اللہ کی قسم! میری زبان بند کر دی گئی، اللہ کی قسم! میری زبان بند کر دی گئی۔
یہ روایت منقطع ہے، اور یہ محمد بن مسلم کے واسطے سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے، اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ذکر کے ساتھ موصولاً بھی، لیکن وہ محفوظ نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 21130]
یہ روایت منقطع ہے، اور یہ محمد بن مسلم کے واسطے سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے، اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ذکر کے ساتھ موصولاً بھی، لیکن وہ محفوظ نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الشهادات/حدیث: 21130]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 21130 in Urdu