السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
428. -- باب: من استحب تأخيرها
-- باب: جس نے عشاء کی نماز مؤخر کرنے کو مستحب قرار دیا، اس کا بیان
حدیث نمبر: 2120
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ثنا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ أنبأ دَاوُدَ بْنُ أَبِي هِنْدٍ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: أَخَّرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ إِلَى قَرِيبٍ مِنْ شَطْرِ اللَّيْلِ ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى بِهِمْ وَقَالَ:" إِنَّكُمْ لَنْ تَزَالُوا فِي صَلَاةٍ مَا انْتَظَرْتُمُوهَا وَلَوْلَا كِبَرُ الْكَبِيرِ وَضَعْفُ الضَّعِيفِ - قَالَ: وَأَحْسِبُهُ قَالَ: وَذُو الْحَاجَةِ - لَأَخَّرْتُ هَذِهِ الصَّلَاةَ إِلَى شَطْرِ اللَّيْلِ" وَكَذَلِكَ رَوَاهُ بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ وَعَبْدُ الْوَارِثِ وَغَيْرُهُمْ، عَنْ دَاوُدَ وَرَوَاهُ أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ دَاوُدَ فَقَالَ: عَنْ جَابِرٍ بَدَلَ أَبِي سَعِيدٍ.
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ایک رات) عشا کی نماز میں آدھی رات تک تاخیر کی، پھر تشریف لائے اور لوگوں کو نماز پڑھائی اور فرمایا: ”تم جب تک نماز کا انتظار کرتے ہو وہ وقت نماز ہی میں شمار ہوتا ہے۔“
”اگر بوڑھوں اور کمزوروں کا ڈر نہ ہوتا تو میں اس نماز کو آدھی رات تک موخر کردیتا۔“ راوی کہتے ہیں: شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حاجت مندوں کا ذکر بھی فرمایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2120]
”اگر بوڑھوں اور کمزوروں کا ڈر نہ ہوتا تو میں اس نماز کو آدھی رات تک موخر کردیتا۔“ راوی کہتے ہیں: شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حاجت مندوں کا ذکر بھی فرمایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2120]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم تخريجه في الحديث 1758»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 2120 in Urdu