السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
428. -- باب: من استحب تأخيرها
-- باب: جس نے عشاء کی نماز مؤخر کرنے کو مستحب قرار دیا، اس کا بیان
حدیث نمبر: 2121
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتُوَيْهِ ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ثنا أَبُو الْيَمَانِ ثنا حَرِيزُ بْنُ عُثْمَانَ الرَّحَبِيُّ عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَاصِمِ بْنِ حُمَيْدٍ السَّكُونِيُّ صَاحِبُ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، عَنْ مُعَاذٍ قَالَ: بَقِيَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَلَاةِ الْعَتَمَةِ لَيْلَةً فَتَأَخَّرَ بِهَا حَتَّى ظَنَّ الظَّانُّ أَنْ قَدْ صَلَّى أَوْ لَيْسَ بِخَارِجٍ ثُمَّ إِنَّهُ خَرَجَ بَعْدُ فَقَالَ لَهُ قَائِلٌ: يَا نَبِيَّ اللهِ لَقَدْ ظَنَنَّا أَنَّكَ قَدْ صَلَّيْتَ يَا نَبِيَّ اللهِ أَوْ لَسْتَ بِخَارِجٍ فَقَالَ لَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَعْتِمُوا بِهَذِهِ الصَّلَاةِ فَإِنَّكُمْ قَدْ فُضِّلْتُمْ بِهَا عَلَى سَائِرِ الْأُمَمِ وَلَمْ يُصَلِّهَا أُمَّةٌ قَبْلَكُمْ".
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم ایک رات عشا کی نماز کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کر رہے تھے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تاخیر ہوگئی حتیٰ کہ بعض لوگوں نے یہ سمجھا کہ شاید آپ نے نماز پڑھ لی ہے یا آپ اب تشریف نہیں لائیں گے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو ایک شخص کہنے لگا: اے اللہ کے نبی! ہم تو یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ آپ ضرور نماز ادا کر چکے ہوں گے یا آج آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف نہیں لائیں گے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نماز کو تاخیر سے پڑھا کرو، کیونکہ تمہیں اس نماز کی وجہ سے سابقہ امتوں پر فضیلت دی گئی ہے اور تم سے پہلے کسی امت نے یہ نماز ادا نہیں کی“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2121]
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تاخیر ہوگئی حتیٰ کہ بعض لوگوں نے یہ سمجھا کہ شاید آپ نے نماز پڑھ لی ہے یا آپ اب تشریف نہیں لائیں گے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو ایک شخص کہنے لگا: اے اللہ کے نبی! ہم تو یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ آپ ضرور نماز ادا کر چکے ہوں گے یا آج آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف نہیں لائیں گے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نماز کو تاخیر سے پڑھا کرو، کیونکہ تمہیں اس نماز کی وجہ سے سابقہ امتوں پر فضیلت دی گئی ہے اور تم سے پہلے کسی امت نے یہ نماز ادا نہیں کی“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2121]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه احمد 5/237»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 2121 in Urdu