السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4177. -- باب: : أي الرقاب أفضل.
-- باب: کون سے غلام کو آزاد کرنا سب سے افضل ہے؟
حدیث نمبر: 21314
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ عِمْرَانَ الْقَاضِي الْهَرَوِيُّ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ عَبْدُ الْجَلِيلِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، أنبأ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي مُرَاوِحٍ الْغِفَارِيِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أِيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" إِيمَانٌ بِاللهِ، وَجِهَادٌ فِي سَبِيلِ اللهِ"، قُلْتُ: أِيُّ الرِّقَابِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" أَغْلَاهَا ثَمَنًا، وَأَنْفَسُهَا عِندَ أَهْلِهَا"، قَالَ: قُلْتُ: فَإِنْ لَمْ أَفْعَلْ؟ قَالَ:" تُعِينُ صَانِعًا، أَوْ تَصْنَعُ لِأَخْرَقَ"، قَالَ: قُلْتُ: فَإِنْ لَمْ أَفْعَلْ؟ قَالَ:" تَدَعُ النَّاسَ مِنَ الشَّرِّ، فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ تَصَدَّقُ بِهَا عَلَى نَفْسِكَ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ مُوسَى.
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: کون سا عمل افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ پر ایمان لانا اور اللہ کے راستہ میں جہاد کرنا۔“ میں نے پوچھا: کون سی گردنیں افضل ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو زیادہ قیمت والی ہوں اور گھر والوں کو زیادہ پسندیدہ ہوں۔“ (سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ) کہتے ہیں: (میں نے عرض کیا) اگر میں یہ نہ کر سکوں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کسی کاریگر کی مدد کرو یا کسی جاہل کو سکھا دو۔“ کہتے ہیں (میں نے پوچھا): اگر میں یہ (بھی) نہ کر سکوں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگوں کو برائی سے چھوڑ دو، یہ بھی صدقہ ہے جس کے ذریعے آپ صدقہ کر لیں گے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب العتق/حدیث: 21314]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 21314 in Urdu