السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4248. -- باب: : عجز المكاتب.
-- باب: مکاتب کے (ادائیگی سے) عاجز آ جانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 21754
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، أَنَّ نَافِعًا، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ: كَاتَبَ غُلَامًا لَهُ عَلَى ثَلَاثِينَ أَلْفًا، ثُمَّ جَاءَهُ فَقَالَ: قَدْ عَجِزْتُ، فَقَالَ:" إِذًا امْحُ كِتَابَتَكَ"، فَقَالَ: قَدْ عَجِزْتُ فَامْحُهَا أَنْتَ، قَالَ نَافِعٌ: فَأَشَرْتُ إِلَيْهِ امْحُهَا، وَهُوَ يَطْمَعُ أَنْ يُعْتِقَهُ، فَمَحَاهَا الْعَبْدُ وَلَهُ ابْنَانِ أَوِ ابْنٌ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ:" اعْتَزِلْ جَارِيَتِي"، قَالَ: فَأَعْتَقَ ابْنُ عُمَرَ ابْنَهُ بَعْدُ..
نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا ایک مکاتب غلام تھا، اس کی کتابت ۳۰ ہزار تھی۔ پھر اس نے آکر کہا: میں عاجز آ گیا ہوں۔ فرمایا: تب اپنی کتابت ختم کر دو۔ وہ کہنے لگا: میں عاجز آ گیا ہوں، آپ خود ہی اس کو مٹا ڈالیں۔ نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے اس کو اشارہ کیا کہ مٹا دو، وہ غلام آزادی کا لالچی تھا۔ غلام نے مٹا دیا۔ اس کے ایک یا دو بیٹے تھے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میری لونڈی کو جدا کر لو، تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس کے بعد اس کے بیٹے کو آزاد کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب المكاتب/حدیث: 21754]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 21754 in Urdu