السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4248. -- باب:: عجز المكاتب.
-- باب: مکاتب کے (ادائیگی سے) عاجز آ جانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 21752
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا حِبَّانُ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ أَبَانَ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْبَجَلِيِّ، ثنا عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ: كَاتَبَ مُكَاتَبًا لَهُ، فَأَدَّى تِسْعَمِائَةٍ، وَبَقِيَتْ مِائَةُ دِينَارٍ فَعَجِزَ، فَرَدَّهُ فِي الرِّقِّ..
عطاء بن ابی رباح حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک مکاتب ٩٠٠ تو ادا کر دے لیکن ایک سو دینار دینے سے عاجز آ گیا تو وہ دوبارہ غلام ہو گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُكَاتَبِ/حدیث: 21752]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 21753
قَالَ: وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ، ثنا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ مُكَاتَبًا لَهُ عَجِزَ فَرَدَّهُ مَمْلُوكًا وَأَمْسَكَ مَا أَخَذَ مِنْهُ..
سیدنا نافع رحمہ اللہ، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کا ایک غلام تھا، وہ اپنی کتابت ادا کرنے سے قاصر ہو گیا، جو لے لیا سو لے لیا، اس کو دوبارہ غلام بنا لیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُكَاتَبِ/حدیث: 21753]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 21754
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، أَنَّ نَافِعًا، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ: كَاتَبَ غُلَامًا لَهُ عَلَى ثَلَاثِينَ أَلْفًا، ثُمَّ جَاءَهُ فَقَالَ: قَدْ عَجِزْتُ، فَقَالَ:" إِذًا امْحُ كِتَابَتَكَ"، فَقَالَ: قَدْ عَجِزْتُ فَامْحُهَا أَنْتَ، قَالَ نَافِعٌ: فَأَشَرْتُ إِلَيْهِ امْحُهَا، وَهُوَ يَطْمَعُ أَنْ يُعْتِقَهُ، فَمَحَاهَا الْعَبْدُ وَلَهُ ابْنَانِ أَوِ ابْنٌ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ:" اعْتَزِلْ جَارِيَتِي"، قَالَ: فَأَعْتَقَ ابْنُ عُمَرَ ابْنَهُ بَعْدُ..
نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا ایک مکاتب غلام تھا، اس کی کتابت ۳۰ ہزار تھی۔ پھر اس نے آکر کہا: میں عاجز آ گیا ہوں۔ فرمایا: تب اپنی کتابت ختم کر دو۔ وہ کہنے لگا: میں عاجز آ گیا ہوں، آپ خود ہی اس کو مٹا ڈالیں۔ نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے اس کو اشارہ کیا کہ مٹا دو، وہ غلام آزادی کا لالچی تھا۔ غلام نے مٹا دیا۔ اس کے ایک یا دو بیٹے تھے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میری لونڈی کو جدا کر لو، تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس کے بعد اس کے بیٹے کو آزاد کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُكَاتَبِ/حدیث: 21754]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21755
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ: كَاتَبَ غُلَامًا لَهُ وَوَلَدَهُ وَأُمَّ وَلَدِهِ، وَأَنَّهُ أَتَى ابْنَ عُمَرَ فَقَالَ لَهُ: إِنِّي قَدْ عَجِزْتُ، فَاقْبَلْ كِتَابَتِي، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ:" إِنِّي لَنْ أَقْبَلَهُ مِنْكَ حَتَّى تَأْتِيَ بِهِمْ"، قَالَ: فَأَتَاهُ بِهِمْ فَرَدَّهُمْ فِي الرِّقِّ، فَلَّمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ إِمَّا بِيَوْمٍ وَإِمَّا بِثَلَاثَةٍ أَعْتَقَهُمْ..
نافع رحمہ اللہ، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے اپنے غلام سے مکاتبت کی۔ اس کا بچہ اور ام ولد بھی موجود تھی۔ وہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں عاجز آ چکا، اپنی کتابت واپس لے لو۔ تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں تجھ سے قبول نہ کروں گا جب تک تو ان کو لے کر نہ آئے گا۔ جب وہ ان کو لے کر آیا، تو انہوں نے ان کو غلامی میں واپس کر دیا۔ اس کے ایک یا تین دن کے بعد ان کو آزاد کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُكَاتَبِ/حدیث: 21755]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21756
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو زَكَرِيِّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ أَبَاهُ، حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ: كَاتَبَ غُلَامًا لَهُ يُقَالُ لَهُ: شَرَفٌ بِأَرْبَعِينَ أَلْفًا، فَخَرَجَ إِلَى الْكُوفَةِ، فَكَانَ يَعْمَلُ عَلَى حُمُرٍ لَهُ، حَتَّى أَدَّى خَمْسَةَ عَشَرَ أَلْفًا، فَجَاءَهُ إِنْسَانٌ فَقَالَ: مَجْنُونٌ أَنْتَ؟ أَنْتَ هَاهُنَا تُعَذِّبُ نَفْسَكَ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ يَشْتَرِي الرَّقِيقَ يَمِينًا وَشِمَالًا ثُمَّ يُعْتِقُهُمْ ارْجِعْ إِلَيْهِ فَقُلْ لَهُ: قَدْ عَجِزْتُ، فَجَاءَ إِلَيْهِ بِصَحِيفَتِهِ، ⦗٥٧٣⦘ فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَدْ عَجِزْتُ، وَهَذِهِ صَحِيفَتِي فَامْحُهَا، فَقَالَ:" لَا، وَلَكِنْ امْحُهَا إِنْ شِئْتَ"، فَمَحَاهَا، فَفَاضَتْ عَيْنَا عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ:" اذْهَبْ فَأَنْتَ حُرٌّ"، قَالَ: أَصْلَحَكَ اللهُ، أَحْسِنْ إِلَى ابْنِيَّ، قَالَ:" هُمَا حُرَّانِ"، قَالَ: أَصْلَحَكَ اللهُ، أَحْسِنْ إِلَى أُمَّيْ وَوَلَدِيَّ، قَالَ:" هُمَا حُرَّتَانِ"، فَأَعْتَقَهُمْ خَمْسَتَهُمْ جَمِيعًا فِي مَقْعَدٍ..
عمر بن محمد بن زید بن عبداللہ بن عمر اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے ایک غلام سے چالیس ہزار میں مکاتبت کی، اس کا نام شرف تھا، وہ کوفہ گیا اور وہاں گدھوں پر کام کرنے لگا، تو اس نے پندرہ ہزار کما کر دے دیے، پھر ایک شخص اس کے پاس آیا اور اس نے کہا: کیا تم پاگل ہو؟ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما تو غلام خرید کر آزاد کرتے ہیں اور تم نے اپنے آپ کو عذاب میں مبتلا کیا ہوا ہے، ان کے پاس جاؤ اور جا کر کہو کہ میں عاجز آ گیا ہوں، وہ اپنے ساتھ تحریر بھی لے کر آیا اور کہنے لگا: اے ابوعبدالرحمن! میں عاجز آ گیا ہوں، یہ تحریر ہے، اسے ختم کر دیں، تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہنے لگے: اگر تم چاہو تو اسے مٹا دو، میں اسے نہیں مٹاؤں گا، چنانچہ اس نے اسے مٹا دیا، تو ابن عمر رضی اللہ عنہما کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر آئیں اور فرمانے لگے: جاؤ، تم آزاد ہو، اس نے کہا: اللہ آپ کو بھلائی دے، میرے بیٹوں پر بھی احسان فرمائیں، تو آپ نے فرمایا: وہ دونوں بھی آزاد ہیں، اس نے کہا: میری والدہ اور میرے بچوں کی والدہ کو بھی (آزاد کر دیں)، تو آپ نے فرمایا: وہ دونوں بھی آزاد ہیں، چنانچہ آپ نے ایک ہی جگہ بیٹھے ہوئے ان پانچوں کو آزاد کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُكَاتَبِ/حدیث: 21756]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21757
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرُوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ إِسْحَاقَ مَوْلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ أَبَاهُ كَاتَبَهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ عَلَى ثَلَاثِينَ أَلْفًا، فَعَجِزَ، فَرَدَّهُ فِي الرِّقِّ وَقَدْ أَدَّى النِّصْفَ أَوْ قَرِيبًا مِنَ النِّصْفِ، فَطَلَبَ إِلَيْهِ أَنْ يُعْتِقَ وَلَدَهُ، وَكَانُوا وُلِدُوا مِنْ مُكَاتَبَتِهِ، فَأَعْتَقَهُ وَأَعْتَقَ وَلَدَهُ، وَرَدَّ إِلَيْهِ أَلْفًا وَخَمْسَمِائَةِ دِرْهَمٍ..
اسحاق جو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے غلام تھے، فرماتے ہیں کہ ان کے والد نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ۳۰ ہزار میں مکاتبت کر لی۔ وہ عاجز آ گیا تو اس کو غلامی میں لوٹا دیا۔ اس نے نصف یا تقریباً نصف ادا کر دی تھی۔ اس نے مطالبہ کر دیا کہ میرے بچوں کو آزاد کر دیں جو ان کی مکاتبت کے درمیان پیدا ہوئے، اس کو اور اس کے بچوں کو بھی آزاد کر دیا اور ۱۵۰۰ درہم بھی واپس کر دیے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُكَاتَبِ/حدیث: 21757]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 21758
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، أَنّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، يَقُولُ فِي الْمُكَاتَبِ يُؤَدِّي صَدْرًا مِنْ كِتَابَتِهِ وَيَعْجِزُ، أَيُرَدُّ رَقِيقًا؟ قَالَ:" سَيِّدُهُ أَحَقُّ بِشَرْطِهِ الَّذِي شَرَطَ".
ابوزبیر نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ مکاتب کے بارے میں کہتے تھے جب وہ اپنی کتابت کا ابتدائی حصہ ادا کر چکا ہو اور وہ عاجز آ جائے، کیا وہ غلام ہے؟ فرمایا: ”مالک اپنی شرط کا زیادہ حق دار ہے، جو اس نے شرط لگائی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُكَاتَبِ/حدیث: 21758]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21759
قَالَ: وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ، ثنا حَفْصٌ، عَنِ الْأَشْعَثِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ:" لَهُمْ مَا أَخَذُوا مِنْهُ"، يَعْنِي إِذَا لَمْ يُكْمِلْ، فَرُدَّ فِي الرِّقِّ، فَمَا أَخَذَ فَلَهُ".
ابوزبیر سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ”(مالکوں نے) اس سے جو کچھ لیا وہ انہی کا ہے“، یعنی جب وہ اپنی پوری کتابت ادا نہ کرے اور اسے غلامی میں واپس کر دیا جائے تو (مالک نے) جو لیا وہ اسی کا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُكَاتَبِ/حدیث: 21759]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 21760
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" إِذَا تَتَابَعَ عَلَى الْمُكَاتَبِ نَجْمَانِ فَلَمْ يُؤَدِّ نُجُومَهُ رُدَّ فِي الرِّقِّ". وَقَالَ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ:" فَدَخَلَ فِي السَّنَةِ الثَّانِيَةِ"، أَوْ قَالَ:" فِي الثَّالِثَةِ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب غلام مسلسل دو قسطیں ادا نہ کرے تو دوبارہ غلام بنا لیا جائے گا۔ دوسری روایت میں ہے کہ وہ دوسرے یا تیسرے سال میں ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُكَاتَبِ/حدیث: 21760]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 21761
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا حِبَّانُ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ خِلَاسٍ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" إِذَا عَجِزَ الْمُكَاتَبُ اسْتَسْعَى حَوْلَيْنِ، فَإِنْ أَدَّى وَإِلَّا رُدَّ فِي الرِّقِّ". الْإِسْنَادُ الْأَوَّلُ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ضَعِيفٌ، وَرِوَايَةُ خِلَاسٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَا تَصِحُّ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ، فَإِنْ صَحَّتْ فَهِيَ مَحْمُولَةٌ عَلَى وَجْهِ الْمَعْرُوفِ مِنْ جِهَةِ السَّيِّدِ، فَإِنْ لَمْ يَنْتَظِرْ رُدَّ فِي الرِّقِّ، وَاللهُ أَعْلَمُ..
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ اگر غلام عاجز آجائے تو دو سال اس سے مزدوری کروائی جائے۔ اگر وہ اپنی کتابت ادا کر دے تو آزاد ہو، ورنہ دوبارہ غلام بنا لیا جائے۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پہلی سند ضعیف ہے، اور خلاس کی سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت محدثین کے نزدیک صحیح نہیں ہے۔ اگر صحیح ہو تو اسے مالک کی طرف سے احسان پر محمول کیا جائے گا، اور اگر وہ انتظار نہ کرے تو اسے دوبارہ غلامی میں لوٹا دیا جائے گا۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُكَاتَبِ/حدیث: 21761]
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پہلی سند ضعیف ہے، اور خلاس کی سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت محدثین کے نزدیک صحیح نہیں ہے۔ اگر صحیح ہو تو اسے مالک کی طرف سے احسان پر محمول کیا جائے گا، اور اگر وہ انتظار نہ کرے تو اسے دوبارہ غلامی میں لوٹا دیا جائے گا۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُكَاتَبِ/حدیث: 21761]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف