السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4249. -- باب:: الرجل يطأ أمته بالملك فتلد له
-- باب: وہ شخص جو ملکیت کی بنا پر اپنی لونڈی سے ہم بستری کرے اور اس سے اس کا بچہ پیدا ہو۔
حدیث نمبر: Q21763
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: هِيَ مَمْلُوكَةٌ بِحَالِهَا، إِلَّا أَنَّهُ لَا يَجُوزُ لِسَيِّدِهَا بَيْعُهَا وَلَا إِخْرَاجُهَا عَنْ مِلْكِهِ بِشَيْءٍ غَيْرِ الْعِتْقِ، وَإِنَّهَا حُرَّةٌ إِذَا مَاتَ مِنْ رَأْسِ الْمَالِ. قَالَ: هُوَ تَقْلِيدٌ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”وہ (ام ولد) اپنی حالت میں مملوکہ (لونڈی) ہی ہے، البتہ اس کے آقا کے لیے اسے بیچنا جائز نہیں اور نہ ہی آزاد کرنے کے سوا کسی اور طریقے سے اسے اپنی ملکیت سے نکالنا جائز ہے، اور جب وہ (آقا) فوت ہو جائے تو وہ (لونڈی) اصل مال (ترکے) میں سے آزاد ہو جائے گی۔“
(امام شافعی رحمہ اللہ نے) فرمایا: ”یہ (مؤقف) سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی تقلید میں ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُكَاتَبِ/حدیث: Q21763]
(امام شافعی رحمہ اللہ نے) فرمایا: ”یہ (مؤقف) سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی تقلید میں ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُكَاتَبِ/حدیث: Q21763]
حدیث نمبر: 21763
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَعُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَغَيْرُهُمْ، أَنَّ نَافِعًا، أَخْبَرَهُمْ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" أَيُّمَا وَلِيدَةٍ وَلَدَتْ مِنْ سَيِّدِهَا فَإِنَّهُ لَا يَبِيعُهَا، وَلَا يَهَبُهَا، وَلَا يُوَرِّثُهَا، وَهُوَ يَسْتَمْتِعُ مِنْهَا، فَإِذَا مَاتَ فَهِيَ حُرَّةٌ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جس لونڈی نے اپنے آقا کی اولاد کو جنم دیا اس کو فروخت، ہبہ اور وراثت نہ بنایا جائے، مالک اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے، اس کی موت کے بعد آزاد ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُكَاتَبِ/حدیث: 21763]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21764
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ بْنِ حَفْصِ بْنِ الْحَمَّامِيِّ الْمُقْرِئُ رَحِمَهُ اللهُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ النَّجَّادُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْقَاضِي، ثنا سَعِيدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: نَهَى عُمَرُ عَنْ بَيْعِ أُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ، فَقَالَ:" لَا تُبَاعُ وَلَا تُوهَبُ وَلَا تُورَثُ، يَسْتَمْتِعُ بِهَا سَيِّدُهَا مَا بَدَا لَهُ، فَإِذَا مَاتَ فَهِيَ حُرَّةٌ"..
ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے امہات الاولاد کو فروخت کرنے سے منع کیا ہے، آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نہ فروخت کیا جائے گا، نہ ہبہ کیا جائے گا اور نہ وراثت بنائی جائے گی، اس کا مالک اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے، جب وہ فوت ہو گا تو وہ آزاد ہو جائے گی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُكَاتَبِ/حدیث: 21764]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21765
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ الْمُقْرِئُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلَانِ إِلَى ابْنِ عُمَرَ فَقَالَ: مِنْ أَيْنَ أَقْبَلْتُمَا؟ قَالَا: مِنْ قِبَلِ ابْنِ الزُّبَيْرِ، فَأَحَلَّ لَنَا أَشْيَاءَ كَانَتْ تُحَرَّمُ عَلَيْنَا، قَالَ: مَا أَحَلَّ لَكُمْ مِمَّا كَانَ يَحْرُمُ عَلَيْكُمْ؟ قَالَا: أَحَلَّ لَنَا بَيْعَ أُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ، قَالَ: أَتَعْرِفَانِ أَبَا حَفْصٍ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؟ قَالَا: نَعَمْ، قَالَ: فَإِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ نَهَى أَنْ تُبَاعَ أَوْ تُوهَبَ أَوْ تُورَثَ:" يَسْتَمْتِعُ بِهَا مَا كَانَ حَيًّا، فَإِذَا مَاتَ فَهِيَ حُرَّةٌ". هَكَذَا رَوَايَةُ الْجَمَاعَةِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، وَغَلِطَ فِيهِ بَعْضُ الرُّوَاةِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ ⦗٥٧٥⦘ دِينَارٍ، فَرَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ وَهْمٌ لَا يَحِلُّ ذِكْرُهُ..
عبداللہ بن دینار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دو آدمی سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آئے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے پوچھا: تم کہاں سے آئے ہو؟ وہ کہنے لگے: سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے پاس سے اور انہوں نے ہمارے لیے کچھ اشیاء حلال قرار دی ہیں جو ہم پر حرام تھیں۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے پوچھا: اس نے تمہارے لیے کیا حلال قرار دیا جو تم پر حرام قرار دی گئی؟ وہ کہنے لگے: اس نے امہات الاولاد کی بیع کو جائز قرار دیا ہے؟ فرمانے لگے: کیا تم ابوحفص سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو جانتے ہو؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ فرمایا: وہ امہات الاولاد کی فروخت، ہبہ یا وراثت بنانے سے منع کرتے تھے، اس کا مالک اس سے اپنی زندگی میں فائدہ اٹھا سکتا ہے، جب وہ فوت ہو جائے تو وہ آزاد ہے۔
جماعت نے عبداللہ بن دینار سے اسی طرح روایت کیا ہے، اور بعض راویوں نے عبداللہ بن دینار سے اس میں غلطی کی اور اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک مرفوع کر دیا، اور یہ وہم ہے جس کا ذکر کرنا جائز نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُكَاتَبِ/حدیث: 21765]
جماعت نے عبداللہ بن دینار سے اسی طرح روایت کیا ہے، اور بعض راویوں نے عبداللہ بن دینار سے اس میں غلطی کی اور اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک مرفوع کر دیا، اور یہ وہم ہے جس کا ذکر کرنا جائز نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُكَاتَبِ/حدیث: 21765]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 21766
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ عُبَيْدَةَ السَّلْمَانِيِّ، قَالَ: قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" اسْتَشَارَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي بَيْعِ أُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ، فَرَأَيْتُ أَنَا وَهُوَ أَنَّهَا عَتِيقَةٌ، فَقَضَى بِهَا عُمَرُ حَيَاتَهُ، وَعُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا بَعْدَهُ، فَلَمَّا وُلِّيتُ أَنَا، رَأَيْتُ أَنْ أَرِقَّهُنَّ". قَالَ: فَأَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ أَنَّهُ سَأَلَ عُبَيْدَةَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ:" أَيُّهُمَا أَحَبُّ إِلَيْكَ"، قَالَ:" رَأْيُ عُمَرَ وَعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا جَمِيعًا أَحَبُّ إِلِيَّ مِنْ رَأْيِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حِينَ أَدْرَكَ الِاخْتِلَافَ"..
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ «أُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ» ”امہاتِ اولاد“ کی بیع کے بارے میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجھ سے مشورہ کیا، میں اور وہ دونوں اس کو آزاد خیال کرتے تھے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اور ان کے بعد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے بھی یہی فیصلہ فرمایا، جب میں خلیفہ بنا تو میں ان کو غلام خیال کرتا تھا، محمد بن سیرین رحمہ اللہ نے حضرت عبیدہ رحمہ اللہ سے اس کے بارے میں سوال کیا کہ کون سی رائے آپ کو زیادہ محبوب ہے؟ فرمایا: حضرت عمر اور حضرت علی رضی اللہ عنہما کی (مشترکہ) رائے کو میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی (اکیلی) رائے سے زیادہ محبوب جانتا ہوں، جب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اختلاف کو پا لیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُكَاتَبِ/حدیث: 21766]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21767
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو عُمَرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ السَّكَنِ الْوَاسِطِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عُبَيْدَةَ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" نَاظَرَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي بَيْعِ أُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ فَقُلْتُ:" يُبَعْنَ"، وَقَالَ: لَا يُبَعْنَ، قَالَ:" فَلَمْ يَزَلْ عُمَرُ يُرَاجِعُنِي حَتَّى قُلْتُ بِقَوْلِهِ، فَقَضَى بِذَلِكَ حَيَاتَهُ، فَلَمَّا أَفْضَى الْأَمْرُ إِلِيَّ رَأَيْتُ أَنْ يُبَعْنَ". قَالَ الشَّعْبِيُّ:" وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ، عَنْ عَبِيدَةَ قَالَ: قُلْتُ لِعَلِيٍّ: فَرَأْيُكَ وَرَأْيُ عُمَرَ فِي الْجَمَاعَةِ أَحَبُّ إِلِيَّ مِنْ رَأْيِكَ وَحْدَكَ فِي الْفُرْقَةِ". قَالَ: وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عُبَيْدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِمِثْلِهِ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجھ سے امہات الاولاد کی بیع کے بارے میں مناظرہ کیا، میں نے کہا: فروخت کی جائے گی، اور وہ فرماتے تھے: فروخت نہ کی جائے گی، ہمیشہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مجھ سے مراجعت فرماتے رہے یہاں تک کہ میں نے ان کی بات مان لی، انہوں نے اپنی زندگی میں ایسا ہی فیصلہ فرمایا۔ جب میں خلیفہ بنا تو میرا خیال تھا کہ ان کو فروخت کیا جائے، محمد بن سیرین رحمہ اللہ سیدنا عبیدہ رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ کی اجتماعی سوچ مجھے آپ کی اکیلے کی رائے سے زیادہ محبوب ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُكَاتَبِ/حدیث: 21767]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 21768
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو عُثْمَانَ الْبَصْرِيُّ، وَأَبُو الْفَضْلِ الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ قُوهْيَارَ قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، قَالَ: بَاعَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ، ثُمَّ رَجَعَ".
زید بن وہب کہتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے امہات الاولاد کو فروخت کیا، بعد میں رجوع کر لیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُكَاتَبِ/حدیث: 21768]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 21769
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، حَدَّثَنِي عَطَّافُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، فِي قِصَّةٍ ذَكَرَهَا، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَقُلْتُ لِعَبْدِ الْمَلِكِ ⦗٥٧٦⦘ يَعْنِي ابْنَ مَرْوَانَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ يَذْكُرُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَمَرَ بِأُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ أَنْ يُقَوَّمْنَ فِي أَمْوَالِ أَبْنَائِهِنَّ بِقِيمَةِ عَدْلٍ، ثُمَّ يُعْتَقْنَ، فَمَكَثَ بِذَلِكَ صَدْرًا مِنْ خِلَافَتِهِ، ثُمَّ تُوُفِّيَ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ كَانَ لَهُ ابْنُ أُمِّ وَلَدٍ، قَدْ كَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُعْجَبُ بِذَلِكَ الْغُلَامِ، فَمَرَّ ذَلِكَ الْغُلَامُ عَلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الْمَسْجِدِ بَعْدَ وَفَاةِ أَبِيهِ بِلَيَالٍ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" مَا فَعَلْتَ يَا ابْنَ أَخِي فِي أُمِّكَ؟"، قَالَ: قَدْ فَعَلْتُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، حِينَ خَيَّرَنِي إِخْوَتِي فِي أَنْ يَسْتَرِقُّوا أُمِّيَ، أَوْ يُخْرِجُونِيَ مِنْ مِيرَاثِي مِنْ أَبِي، فَكَانَ مِيرَاثِي مِنْ أَبِي أَهْوَنَ عَلَيَّ مِنْ أَنْ تُسْتَرَقَّ أُمِّي، قَالَ عُمَرُ:" أَوَلَسْتُ إِنَّمَا أَمَرْتُ فِي ذَلِكَ بِقِيمَةِ عَدْلٍ؟ مَا أَتَرَاءَى رَأْيًا أَوْ آمُرُ بِشَيْءٍ إِلَّا قُلْتُمْ فِيهِ؟"، ثُمَّ قَامَ فَجَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَاجْتَمَعَ إِلَيْهِ النَّاسُ حَتَّى إِذَا رَضِيَ جَمَاعَتَهُمْ قَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي قَدْ كُنْتُ أَمَرْتُ فِي أُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ بِأَمْرٍ قَدْ عَلِمْتُمُوهُ، ثُمَّ قَدْ حَدَثَ لِي رَأْيٌ غَيْرُ ذَلِكَ، فَأَيُّمَا امْرِئٍ كَانَتْ عِنْدَهُ أُمُّ وَلَدٍ فَمَلَكَهَا بِيَمِينِهِ مَا عَاشَ، فَإِذَا مَاتَ فَهِيَ حُرَّةٌ لَا سَبِيلَ عَلَيْهَا".
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ امہات الاولاد کی ان کے بیٹوں کے مال (حصے) میں عدل والی قیمت لگائی جائے پھر آزاد کردی جائیں، یہ ان کی خلافت کی ابتدا میں تھا، پھر ایک قریشی مرد فوت ہوگیا، اس کی ام ولد سے ایک بیٹا تھا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس بچے کو پسند کرتے تھے، یہ بچہ اپنے باپ کی وفات کے چند راتوں بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس سے مسجد میں گزرا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ”اے بھتیجے! تو نے اپنی والدہ کے بارے میں کیا کیا؟“ وہ کہنے لگا: ”اے امیر المؤمنین! جب میرے بھائیوں نے مجھے اختیار دیا کہ وہ میری والدہ کو لونڈی رکھیں یا مجھے میرے والد کی وراثت سے نکال دیں، تو میرے والد کی میراث سے نکلنا مجھ پر اس سے زیادہ آسان تھا کہ میری والدہ کو لونڈی بنایا جائے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کیا میں نے اس بارے میں عدل کی قیمت مقرر کرنے کا حکم نہیں دیا تھا؟ میں جو بھی رائے قائم کروں یا جو بھی حکم دوں تم اس میں باتیں بناتے ہو؟“ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ منبر پر تشریف فرما ہوئے، لوگ ان کے پاس جمع ہوئے، جب وہ ان کی جماعت (کی تعداد) سے مطمئن ہو گئے تو فرمانے لگے: ”امہات الاولاد کے بارے میں تم میرے حکم کو جانتے ہو، پھر مجھے دوسرا خیال آیا، جس کے پاس ام ولد ہو وہ اپنی زندگی تک اس کا مالک ہے، جب فوت ہوجائے تو وہ آزاد ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُكَاتَبِ/حدیث: 21769]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21770
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ سُلَيْمَانَ الزَّاهِدُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْجُنَيْدِ الْمَالِكِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا عَنْبَسَةُ، حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: قَدِمْتُ دِمَشْقَ وَعَبْدُ الْمَلِكِ يَوْمَئِذٍ مَشْغُولٌ بِشَأْنِهِ، فَجَلَسْتُ فِي مَجْلِسٍ لَا أَعْرِفُهُمْ، فَأَقْبَلَ رَجُلٌ فَأَوْسَعُوا لَهُ، قَالَ: كَيْفَ تَرَوْنَ فِي شَيْءٍ ذَكَرَهُ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ آنِفًا، أَتَاهُ مِنْ قِبَلِ الْمَدِينَةِ فِي أُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ أَيُرَّقَّقْنَ أَوْ يُعْتَقْنَ؟ قُلْتُ: إِنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ذَكَرَ أَنَّ رَجُلًا مِنْ قُرَيْشٍ كَانَ يُعْجِبُهُ عَقْلُهُ وَلِسَانُهُ، ثُمَّ مَاتَ أَبُوهُ، وَتَرَكَ مَالًا، وَأُمُّهُ أُمُّ وَلَدٍ، فَأَقَامُوا أُمَّهُ، فَزَايَدُوهُ فِي أُمِّهِ حَتَّى أَخْرَجُوهُ مِنْ مِيرَاثِهِ، فَمَرَّ عَلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَدَعَاهُ، فَسَأَلَهُ: مَا صَارَ لَهُ مِنْ مِيرَاثِ أَبِيهِ، قَالَ: خَرَجْتُ بِأُمِّي مِنْ مِيرَاثِ أَبِي، فَقَالَ:" أَمَا وَاللهِ لَأَقُولَنَّ فِي ذَلِكَ مَقَالًا أَذُبُّ النَّاسَ عَنْهُ"، فَقَامَ فَخَطَبَ النَّاسَ ثُمَّ قَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، أَيُّمَا رَجُلٍ حُرٍّ تَرَكَ أُمَّ وَلَدٍ وَلَدَتْ مِنْهُ فَهِيَ حُرَّةٌ"، قَالَ: فَأَخَذَ بِيَدِي، فَإِذَا هُوَ قَبِيصَةُ بْنُ ذُؤَيْبٍ حَتَّى أَدْخَلَنِي عَلَى عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ، وَإِذَا عَبْدُ الْمَلِكِ ذَكَرَ لِقَبِيصَةَ أَنَّهُ كَانَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، وَلَمْ يُثْبِتْهُ، فَأُدْخِلَ عَلَيْهِ، فَقَالَ هَذَا الْحَدِيثَ الَّذِي أَخْبَرْتُهُ، فَبَدَأَ فَسَأَلَنِي: مَا نَسَبِي؟ فَلَمَّا بَلَغْتُ أَبِي، قَالَ: إِنْ كَانَ أَبُوكَ لَنَعَّارًا فِي الْفِتْنَةِ، مَا حَدِيثُ سَعِيدٍ الَّذِي أَخْبَرَنِي عَنْكَ قَبِيصَةُ؟ فَأَخْبَرْتُهُ بِمِثْلِ مَا أَخْبَرْتُ قَبِيصَةَ، فَأَمَرَ بِذَلِكَ فَأُمْضِيَ، فَقَالَ: مَا مَاتَ رَجُلٌ تَرَكَ مِثْلَكَ..
ابن شہاب کہتے ہیں کہ میں دمشق آیا تو عبد الملک ان دنوں اپنے کام میں مصروف تھے۔ میں ایک مجلس میں بیٹھ گیا جس کے لوگوں کو میں نہیں جانتا تھا۔ ایک آدمی آیا تو لوگوں نے اس کے لیے جگہ کشادہ کر دی۔ اس نے کہا: تمہارا اس بات کے بارے میں کیا خیال ہے جو امیر المومنین نے ابھی ذکر کی، جو مدینہ منورہ کی طرف سے «أُمَّهَاتُ الْأَوْلَادِ» (امہات الاولاد) کے بارے میں ان کے پاس آئی کہ انہیں غلام رکھا جائے یا آزاد کیا جائے؟ میں نے کہا: سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے ذکر کیا کہ قریش کا ایک آدمی تھا جس کی عقل اور زبان پسند کی جاتی تھی۔ پھر اس کا باپ فوت ہو گیا اور مال چھوڑ گیا، اور اس کی والدہ «أُمُّ وَلَدٍ» (ام ولد) تھی۔ انہوں نے اس کی والدہ کی قیمت لگائی اور اس کی والدہ کے بارے میں اس پر بولی بڑھاتے رہے یہاں تک کہ اسے اس کی وراثت سے نکال دیا۔ وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرا تو انہوں نے اسے بلایا اور پوچھا کہ اسے اپنے باپ کی وراثت میں سے کیا ملا؟ اس نے کہا: میں اپنے باپ کی وراثت میں سے (صرف) اپنی والدہ کو لے کر نکلا ہوں۔ فرمایا: اللہ کی قسم! میں اس بارے میں ضرور ایسی بات کہوں گا جس کے ذریعے لوگوں کو اس سے بچاؤں گا۔ پھر کھڑے ہوئے اور لوگوں کو خطبہ دیا، پھر فرمایا: اے لوگو! جو بھی آزاد آدمی ایسی «أُمُّ وَلَدٍ» (ام ولد) چھوڑ جائے جس نے اس سے بچہ جنا ہو تو وہ آزاد ہے۔ (ابن شہاب) کہتے ہیں: پھر اس (آدمی) نے میرا ہاتھ پکڑا، تو وہ قبیصہ بن ذویب تھے، یہاں تک کہ مجھے عبد الملک بن مروان کے پاس لے گئے۔ عبد الملک نے قبیصہ سے ذکر کیا تھا کہ یہ (روایت) سعید بن مسیب کی ہے، لیکن انہیں اس کا یقین نہ تھا۔ چنانچہ مجھے ان کے پاس لے جایا گیا اور (قبیصہ نے) انہیں یہ حدیث بتائی جو میں نے انہیں بتائی تھی۔ انہوں نے ابتدا میں مجھ سے میرا نسب پوچھا، جب میں اپنے باپ کے نام پر پہنچا تو کہنے لگے: تمہارا باپ تو فتنے میں شور برپا کرنے والا تھا۔ سعید کی وہ کون سی حدیث ہے جو قبیصہ نے مجھے تمہارے حوالے سے بتائی ہے؟ تو میں نے انہیں بھی وہی بتایا جو قبیصہ کو بتایا تھا۔ انہوں نے اس کا حکم دیا تو اسے نافذ کر دیا گیا، اور کہنے لگے: جو آدمی تم جیسا (بیٹا) چھوڑ جائے وہ مرا نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُكَاتَبِ/حدیث: 21770]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21771
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: أَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعِتْقِ أُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ، وَلَا ⦗٥٧٧⦘ يُجْعَلْنَ فِي الثُّلُثِ، وَأَمَرَ أَنْ لَا يُبَعْنَ فِي الدَّيْنِ.. قَالَ جَعْفَرٌ: لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ غَيْرُهُ.
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ: ”امہات الاولاد کو آزاد کر دیا جائے، ان کو ثلث میں نہ رکھا جائے اور قرض میں فروخت نہ کیا جائے۔“
جعفر کہتے ہیں: اس حدیث کو ان (عبدالرحمن بن زیاد) کے علاوہ کسی نے روایت نہیں کیا۔
(ب) سعید بن مسیب رحمہ اللہ امہات الاولاد کے بارے میں فرماتے ہیں کہ لوگوں نے کہا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا پہلا حکم امہات الاولاد کے بارے میں تھا کہ آزاد کی جائیں، لیکن ایسا نہ تھا۔ سب سے پہلے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو آزاد کیا، ثلث میں ان کو نہ رکھا اور قرض میں فروخت بھی نہ کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُكَاتَبِ/حدیث: 21771]
جعفر کہتے ہیں: اس حدیث کو ان (عبدالرحمن بن زیاد) کے علاوہ کسی نے روایت نہیں کیا۔
(ب) سعید بن مسیب رحمہ اللہ امہات الاولاد کے بارے میں فرماتے ہیں کہ لوگوں نے کہا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا پہلا حکم امہات الاولاد کے بارے میں تھا کہ آزاد کی جائیں، لیکن ایسا نہ تھا۔ سب سے پہلے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو آزاد کیا، ثلث میں ان کو نہ رکھا اور قرض میں فروخت بھی نہ کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُكَاتَبِ/حدیث: 21771]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف