السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
51. -- باب: تأكيد المضمضة والاستنشاق
-- باب: کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کی تاکید کا بیان
حدیث نمبر: 236
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو الْبَزَّازُ بِبَغْدَادَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، قَالَ: وَثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، وَاللَّفْظُ لَهُ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ لَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ أَتَى عَائِشَةَ هُوَ وَصَاحِبٌ لَهُ يَطْلُبَانِ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَجِدَاهُ، فَأَطْعَمَتْهُمَا عَائِشَةُ تَمْرًا وَعَصِيدًا، فَلَمْ يَلْبَثَا أَنْ جَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَتَقَلَّعُ يَتَكَفَّأُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" هَلْ أَطْعَمَكُمَا أَحَدٌ؟". فَقُلْتُ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللهِ. ثُمَّ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَخْبِرْنَا عَنِ الصَّلَاةِ، قَالَ:" أَسْبِغِ الْوُضُوءَ، وَخَلِّلِ الْأَصَابِعَ، وَإِذَا اسْتَنْشَقْتَ فَبَالِغْ إِلَّا أَنْ تَكُونَ صَائِمًا".
سیدنا عاصم بن لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ اور ان کا ساتھی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تلاش کر رہے تھے لیکن انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ پایا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کو کھجوریں اور آٹے کا حلوہ کھلایا۔ وہ زیادہ دیر نہیں ٹھہرے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باوقار انداز میں چلتے ہوئے تشریف لائے اور فرمایا: ”کیا تم دونوں کو کسی نے کوئی چیز کھلائی ہے؟“ میں نے کہا: ہاں اے اللہ کے رسول! پھر میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمیں نماز کے بارے میں بتائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مکمل وضو کرو اور انگلیوں کا خلال کرو اور جب ناک میں پانی چڑھاؤ تو مبالغہ کرو مگر روزے کی حالت میں نہ کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 236]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابو داؤد 143»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 236 in Urdu