السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
51. -- باب: تأكيد المضمضة والاستنشاق
-- باب: کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کی تاکید کا بیان
حدیث نمبر: 235
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْكِرْمَانِيُّ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، ح. وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَلِيمٍ الصَّائِغُ بِمَرْوَ، أنا أَبُو الْمُوَجَّهِ، أنا عَبْدَانُ، أنا عَبْدُ اللهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ، أنا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو إِدْرِيسَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يُخْبِرُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" مَنْ تَوَضَّأَ فَلْيَسْتَنْثِرْ، وَمَنِ اسْتَجْمَرَ فَلْيُوتِرْ". هَذَا حَدِيثُ ابْنِ الْمُبَارَكِ، وَزَادَ حَسَّانُ فِي حَدِيثِهِ، أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، فَذَكَرَهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدَانَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَنْصُورٍ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص وضو کرے تو وہ ناک کو جھاڑے اور جو ڈھیلے استعمال کرے تو وہ طاق عدد میں استعمال کرے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 235]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 159»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 236
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو الْبَزَّازُ بِبَغْدَادَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، قَالَ: وَثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، وَاللَّفْظُ لَهُ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ لَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ أَتَى عَائِشَةَ هُوَ وَصَاحِبٌ لَهُ يَطْلُبَانِ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَجِدَاهُ، فَأَطْعَمَتْهُمَا عَائِشَةُ تَمْرًا وَعَصِيدًا، فَلَمْ يَلْبَثَا أَنْ جَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَتَقَلَّعُ يَتَكَفَّأُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" هَلْ أَطْعَمَكُمَا أَحَدٌ؟". فَقُلْتُ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللهِ. ثُمَّ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَخْبِرْنَا عَنِ الصَّلَاةِ، قَالَ:" أَسْبِغِ الْوُضُوءَ، وَخَلِّلِ الْأَصَابِعَ، وَإِذَا اسْتَنْشَقْتَ فَبَالِغْ إِلَّا أَنْ تَكُونَ صَائِمًا".
سیدنا عاصم بن لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ اور ان کا ساتھی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تلاش کر رہے تھے لیکن انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ پایا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کو کھجوریں اور آٹے کا حلوہ کھلایا۔ وہ زیادہ دیر نہیں ٹھہرے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باوقار انداز میں چلتے ہوئے تشریف لائے اور فرمایا: ”کیا تم دونوں کو کسی نے کوئی چیز کھلائی ہے؟“ میں نے کہا: ہاں اے اللہ کے رسول! پھر میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمیں نماز کے بارے میں بتائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مکمل وضو کرو اور انگلیوں کا خلال کرو اور جب ناک میں پانی چڑھاؤ تو مبالغہ کرو مگر روزے کی حالت میں نہ کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 236]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابو داؤد 143»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 237
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، أنا ابْنُ جُرَيْجٍ، بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ فِيهِ:" إِذَا تَوَضَّأْتَ فَمَضْمِضْ".
ایک حدیث میں ہے: ”جب تو وضو کرے تو کلی کر۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 237]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابو داؤد 144»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 238
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا ⦗٨٧⦘ إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَحْمَدَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ" أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِالْمَضْمَضَةِ وَالِاسْتِنْشَاقِ". قَالَ: وَقَالَ مَرَّةً أُخْرَى مُرْسَلًا: لَمْ يَقُلْ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ. قَالَ الشَّيْخُ: كَذَا فِي هَذَا الْحَدِيثِ أَظُنُّهُ هُدْبَةَ أَرْسَلَهُ مَرَّةً، وَوَصَلَهُ أُخْرَى، وَتَابَعَهُ دَاوُدُ بْنُ الْمُحَبَّرِ، عَنْ حَمَّادٍ فِي وَصْلِهِ، وَغَيْرُهُمَا يَرْوِيهِ مُرْسَلًا. وَكَذَلِكَ ذَكَرَهُ لِي أَبُو بَكْرٍ الْفَقِيهُ، عَنْ أَبِي الْحَسَنِ الدَّارَقُطْنِيِّ. قَالَ الشَّيْخُ: وَخَالَفَهُمَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْخَلَّالُ، شَيْخٌ لِيَعْقُوبَ بْنِ سُفْيَانَ، فَقَالَ: عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ عَمَّارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَكِلَاهُمَا غَيْرُ مَحْفُوظٍ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”کلی کرنے اور ناک میں پانی چڑھانے“ کا حکم دیا۔
(ب) بعض اوقات راوی اس حدیث کو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا واسطہ چھوڑ کر مرسل بیان کرتا ہے۔ شیخ فرماتے ہیں: میرے گمان کے مطابق اس نے ایک دفعہ مرسل اور دوسری مرتبہ موصولاً بیان کیا۔
(ج) داؤد بن محیر بھی موصول بیان کرنے میں ان کی متابعت کرتے ہیں۔ ان کے علاوہ باقی تمام رواۃ مرسل بیان کرتے ہیں۔
(د) شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یعقوب بن سفیان کے استاد ابراہیم بن سلیمان خلال نے ان دونوں کی مخالفت کی ہے اور اسے حماد سے، انہوں نے عمار سے، انہوں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے، اور دونوں روایتیں غیر محفوظ ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 238]
(ب) بعض اوقات راوی اس حدیث کو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا واسطہ چھوڑ کر مرسل بیان کرتا ہے۔ شیخ فرماتے ہیں: میرے گمان کے مطابق اس نے ایک دفعہ مرسل اور دوسری مرتبہ موصولاً بیان کیا۔
(ج) داؤد بن محیر بھی موصول بیان کرنے میں ان کی متابعت کرتے ہیں۔ ان کے علاوہ باقی تمام رواۃ مرسل بیان کرتے ہیں۔
(د) شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یعقوب بن سفیان کے استاد ابراہیم بن سلیمان خلال نے ان دونوں کی مخالفت کی ہے اور اسے حماد سے، انہوں نے عمار سے، انہوں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے، اور دونوں روایتیں غیر محفوظ ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 238]
حدیث نمبر: 239
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصُّوفِيُّ، أنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْأَشْعَثِ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مِهْرَانَ، ثنا عِصَامُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْمَضْمَضَةُ وَالِاسْتِنْشَاقُ مِنَ الْوُضُوءِ الَّذِي لَا بُدَّ مِنْهُ". قَالَ الشَّيْخُ: وَرَوَاهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ بِشْرٍ الْبَلْخِيُّ، عَنْ عِصَامٍ نَحْوَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" مِنَ الْوُضُوءِ الَّذِي لَا تَتِمُّ الصَّلَاةُ إِلَّا بِهِ". أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْفَقِيهُ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، قَالَ: تَفَرَّدَ بِهِ عِصَامٌ، وَوَهِمَ فِيهِ، وَالصَّوَابُ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى مُرْسَلًا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ تَوَضَّأَ فَلْيُمَضْمِضْ وَلْيَسْتَنْشِقْ".
(الف) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وضو میں کلی کرنا اور ناک میں پانی چڑھانا فرض ہے۔“
(ب) اسماعیل بن بشر بلخی نے بھی عصام سے اسی طرح بیان کیا ہے، مگر انہوں نے کہا: ”یہ اس وضو میں سے ہیں جس کے بغیر نماز مکمل نہیں ہوتی۔“
(ج) سلیمان بن موسیٰ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل بیان کرتے ہیں: ”جو شخص وضو کرے تو وہ کلی کرے اور ناک میں پانی چڑھائے۔“
عصام اس روایت میں منفرد ہیں اور انہیں اس میں وہم ہوا ہے، درست یہ ہے کہ یہ ابن جریج سے، وہ سلیمان بن موسیٰ سے مرسل منقول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 239]
(ب) اسماعیل بن بشر بلخی نے بھی عصام سے اسی طرح بیان کیا ہے، مگر انہوں نے کہا: ”یہ اس وضو میں سے ہیں جس کے بغیر نماز مکمل نہیں ہوتی۔“
(ج) سلیمان بن موسیٰ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل بیان کرتے ہیں: ”جو شخص وضو کرے تو وہ کلی کرے اور ناک میں پانی چڑھائے۔“
عصام اس روایت میں منفرد ہیں اور انہیں اس میں وہم ہوا ہے، درست یہ ہے کہ یہ ابن جریج سے، وہ سلیمان بن موسیٰ سے مرسل منقول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 239]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه الدار قطني 1/84»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 240
قَالَ عَلِيٌّ: حَدَّثَنَا بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْحَسَّانِيُّ، ثنا وَكِيعٌ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ تَوَضَّأَ فَلْيُمَضْمِضْ وَلْيَسْتَنْشِقْ". وَهَكَذَا رَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَسُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ وَغَيْرُهُمَا، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ. وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْأَزْهَرِ الْجَوْزَجَانِيُّ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ مُوسَى السِّينَانِيُّ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، بِإِسْنَادِ عِصَامٍ وَمَتْنِ الْجَمَاعَةِ. قَالَ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ: مُحَمَّدُ بْنُ الْأَزْهَرِ هَذَا ضَعِيفٌ. وَهَذَا خَطَأٌ، وَالْمُرْسَلُ أَصَحُّ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
سلیمان بن موسیٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص وضو کرے تو اسے چاہیے کہ وہ کلی کرے اور ناک میں پانی چڑھائے۔“
محمد بن ازہر ضعیف ہے، اور یہ (موصول روایت) غلط ہے، مرسل زیادہ صحیح ہے۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 240]
محمد بن ازہر ضعیف ہے، اور یہ (موصول روایت) غلط ہے، مرسل زیادہ صحیح ہے۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 240]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه الدار قطني 1/84»
الحكم على الحديث: ضعيف