السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
51. -- باب: تأكيد المضمضة والاستنشاق
-- باب: کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کی تاکید کا بیان
حدیث نمبر: 238
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا ⦗٨٧⦘ إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَحْمَدَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ" أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِالْمَضْمَضَةِ وَالِاسْتِنْشَاقِ". قَالَ: وَقَالَ مَرَّةً أُخْرَى مُرْسَلًا: لَمْ يَقُلْ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ. قَالَ الشَّيْخُ: كَذَا فِي هَذَا الْحَدِيثِ أَظُنُّهُ هُدْبَةَ أَرْسَلَهُ مَرَّةً، وَوَصَلَهُ أُخْرَى، وَتَابَعَهُ دَاوُدُ بْنُ الْمُحَبَّرِ، عَنْ حَمَّادٍ فِي وَصْلِهِ، وَغَيْرُهُمَا يَرْوِيهِ مُرْسَلًا. وَكَذَلِكَ ذَكَرَهُ لِي أَبُو بَكْرٍ الْفَقِيهُ، عَنْ أَبِي الْحَسَنِ الدَّارَقُطْنِيِّ. قَالَ الشَّيْخُ: وَخَالَفَهُمَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْخَلَّالُ، شَيْخٌ لِيَعْقُوبَ بْنِ سُفْيَانَ، فَقَالَ: عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ عَمَّارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَكِلَاهُمَا غَيْرُ مَحْفُوظٍ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”کلی کرنے اور ناک میں پانی چڑھانے“ کا حکم دیا۔
(ب) بعض اوقات راوی اس حدیث کو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا واسطہ چھوڑ کر مرسل بیان کرتا ہے۔ شیخ فرماتے ہیں: میرے گمان کے مطابق اس نے ایک دفعہ مرسل اور دوسری مرتبہ موصولاً بیان کیا۔
(ج) داؤد بن محیر بھی موصول بیان کرنے میں ان کی متابعت کرتے ہیں۔ ان کے علاوہ باقی تمام رواۃ مرسل بیان کرتے ہیں۔
(د) شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یعقوب بن سفیان کے استاد ابراہیم بن سلیمان خلال نے ان دونوں کی مخالفت کی ہے اور اسے حماد سے، انہوں نے عمار سے، انہوں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے، اور دونوں روایتیں غیر محفوظ ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 238]
(ب) بعض اوقات راوی اس حدیث کو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا واسطہ چھوڑ کر مرسل بیان کرتا ہے۔ شیخ فرماتے ہیں: میرے گمان کے مطابق اس نے ایک دفعہ مرسل اور دوسری مرتبہ موصولاً بیان کیا۔
(ج) داؤد بن محیر بھی موصول بیان کرنے میں ان کی متابعت کرتے ہیں۔ ان کے علاوہ باقی تمام رواۃ مرسل بیان کرتے ہیں۔
(د) شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یعقوب بن سفیان کے استاد ابراہیم بن سلیمان خلال نے ان دونوں کی مخالفت کی ہے اور اسے حماد سے، انہوں نے عمار سے، انہوں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے، اور دونوں روایتیں غیر محفوظ ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 238]
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 238 in Urdu