السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
523. -- باب: ما استدل به من قال باقتصار المأموم على الحمد دون قوله سمع الله لمن حمده
-- باب: اس دلیل کا بیان جس سے اس شخص نے استدلال کیا جو مقتدی کے ”سمع الله لمن حمده“ کہے بغیر صرف تحمید (ربنا لك الحمد) پر اکتفا کرنے کا قائل ہے
حدیث نمبر: 2618
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللهِ الرَّقَاشِيِّ، أَنَّ أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ صَلَّى بِالنَّاسِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَفِيهِ: فَقَالَ أَبُو مُوسَى: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَنَا فَعَلَّمَنَا صَلَاتَنَا وَبَيَّنَ لَنَا سُنَّتَنَا، فَقَالَ:" إِذَا صَلَّيْتُمْ فَأَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَإِذَا قَالَ: غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ، فَقُولُوا: آمِينَ يُجِبْكُمُ اللهُ، وَإِذَا كَبَّرَ فَرَكَعَ فَكَبِّرُوا وَارْكَعُوا، فَإِنَّ الْإِمَامَ يُكَبِّرُ قَبْلَكُمْ وَيَرْفَعُ قَبْلَكُمْ" فَقَالَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَتِلْكَ بِتِلْكَ، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقُولُوا: رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ يُجِبْكُمُ اللهُ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ وَغَيْرِهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، وَرَوَاهُ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَطَرٍ، عَنْ زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ قَالَ:" صَلَّيْتُ خَلْفَ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ فَقَالَ لَنَا: إِذَا قَالَ الْإِمَامُ: اللهُ أَكْبَرُ، فَقُلْ: اللهُ أَكْبَرُ، فَتِلْكَ بِتِلْكَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ وَقَالَ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقُلْ مِثْلَهَا، فَتِلْكَ بِتِلْكَ وَالرِّوَايَةُ الصَّحِيحَةُ هِيَ الرِّوَايَةُ الْأُولَى".
(ا) حطان بن عبداللہ رقاشی سے روایت ہے کہ ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔۔۔ پھر مکمل حدیث ذکر کی۔ اس میں یہ بھی ہے کہ ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور ہمیں نماز سکھائی اور اس کا طریقہ ہمارے لیے بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم نماز پڑھنے لگو تو صفوں کو درست کر لیا کرو۔ جب امام تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو اور جب وہ ﴿غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ﴾ [سورة الفاتحة: 7] کہے تو تم «آمِيْن» کہو۔ اللہ تمہاری دعا قبول کرے گا اور جب وہ تکبیر کہہ کر رکوع کرے تو تم رکوع کرو، کیونکہ امام تکبیر بھی تم سے پہلے کہتا ہے اور رکوع سے سر بھی تم سے پہلے اٹھائے گا“ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مقتدی اس کے ساتھ ساتھ چلے اور جب امام «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» کہے تو تم کہو «رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ» “ ”اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی۔ اے ہمارے رب! تیرے لیے ہی تمام تعریفیں ہیں۔“ ”اللہ تمہاری دعا قبول کرے گا۔“
(ب) زہدم جرمی سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی تو انہوں نے ہمیں فرمایا: جب امام «اللّٰهُ أَكْبَرُ» کہے تو تم بھی اس کی اتباع میں «اللّٰهُ أَكْبَرُ» کہو اور جب وہ اپنا سر رکوع سے اٹھاتے ہوئے «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» کہے تو تم بھی اس کے مثل کہو۔
صحیح روایت پہلی روایت ہی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2618]
(ب) زہدم جرمی سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی تو انہوں نے ہمیں فرمایا: جب امام «اللّٰهُ أَكْبَرُ» کہے تو تم بھی اس کی اتباع میں «اللّٰهُ أَكْبَرُ» کہو اور جب وہ اپنا سر رکوع سے اٹھاتے ہوئے «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» کہے تو تم بھی اس کے مثل کہو۔
صحیح روایت پہلی روایت ہی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2618]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه عبدالرزاق 2647»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 2618 in Urdu