🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
523. -- باب: ما استدل به من قال باقتصار المأموم على الحمد دون قوله سمع الله لمن حمده
-- باب: اس دلیل کا بیان جس سے اس شخص نے استدلال کیا جو مقتدی کے ”سمع الله لمن حمده“ کہے بغیر صرف تحمید (ربنا لك الحمد) پر اکتفا کرنے کا قائل ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2619
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ: قُرِئَ عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ، أَخْبَرَكَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، وَيُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ، أَخْبَرَهُمْ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" رَكِبَ فَرَسًا فَصُرِعَ عَنْهُ، فَجُحِشَ شِقُّهُ الْأَيْمَنُ فَصَلَّى لَنَا صَلَاةً مِنَ الصَّلَوَاتِ وَهُوَ جَالِسٌ، فَصَلَّيْنَا مَعَهُ جُلُوسًا، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ:" إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَلَا تَخْتَلِفُوا عَلَيْهِ، فَإِذَا صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا، وَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقُولُوا: رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا، وَإِذَا صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا أَجْمَعِينَ" مَخَرَّجٌ فِي الصَّحِيحَيْنِ مِنْ حَدِيثِ مَالِكٍ وَغَيْرِهِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ حَرْمَلَةَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَبُو هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَذَلِكَ رُوِيَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے پر سوار ہوئے تھے کہ اس سے گر گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دایاں پہلو مبارک زخمی ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نماز ہمیں بیٹھ کر پڑھائی اور ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے بیٹھ کر ہی نماز پڑھی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”امام اس لیے بنایا جاتا ہے کہ اس کی اقتدا کی جائے۔ تم امام سے اختلاف نہ کیا کرو۔ جب وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھائے تو تم بھی کھڑے ہو کر پڑھو اور جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو اور جب وہ کہے: «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ تو تم کہو: «رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» ”اے ہمارے رب! تمام تعریفیں تیرے ہی لیے ہیں“ اور جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو اور جب امام بیٹھ کر نماز پڑھائے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2619]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 789»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 2619 in Urdu