السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
577. -- باب: مبتدأ فرض التشهد
-- باب: تشہد کے فرض ہونے کی ابتداء کا بیان
حدیث نمبر: 2824
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَا: ثنا شُعْبَةُ قَالَ: سَمِعْتُ مُسْلِمًا أَبَا النَّضْرِ قَالَ: سَمِعْتُ حَمَلَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ:" لَا تَجُوزُ صَلَاةٌ إِلَّا بِتَشَهُّدٍ" وَرُوِّينَا عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ" لَا صَلَاةَ إِلَّا بِتَشَهُّدٍ" فَالَّذِي رُوِيَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ مِنْ قَوْلِهِ إِذَا جَلَسَ مِقْدَارَ التَّشَهُّدِ، ثُمَّ أَحْدَثَ فَقَدْ تَمَّتْ صَلَاتُهُ لَا يَصِحُّ، وَعَاصِمُ بْنُ ضَمْرَةَ غَيْرُ مُحْتَجٍّ بِهِ.
(ا) حملہ بن عبدالرحمن فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا: تشہد کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔
(ب) سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ تشہد کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔
اور عاصم بن ضمرہ کے واسطے سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا جو قول منقول ہے کہ جب وہ تشہد کی مقدار بیٹھ جائے، پھر بےوضو ہو جائے تو اس کی نماز مکمل ہو گئی، وہ صحیح نہیں ہے اور عاصم بن ضمرہ قابلِ حجت نہیں ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2824]
(ب) سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ تشہد کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔
اور عاصم بن ضمرہ کے واسطے سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا جو قول منقول ہے کہ جب وہ تشہد کی مقدار بیٹھ جائے، پھر بےوضو ہو جائے تو اس کی نماز مکمل ہو گئی، وہ صحیح نہیں ہے اور عاصم بن ضمرہ قابلِ حجت نہیں ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2824]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 2824 in Urdu