السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
595. -- باب: من قال يترك المأموم القراءة فيما جهر فيه الإمام بالقراءة
-- باب: اس قول کا بیان کہ مقتدی ان نمازوں میں قراءت چھوڑ دے جن میں امام جہری قراءت کرتا ہے
حدیث نمبر: 2893
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، وَأَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، وَابْنُ السَّرْحِ قَالُوا: ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا الزُّهْرِيُّ حَفِظْتُهُ مِنْ فِيهِ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أُكَيْمَةَ يُحَدِّثُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةً نَظُنُّ أَنَّهَا الصُّبْحُ، فَلَمَّا قَضَاهَا قَالَ:" هَلْ قَرَأَ مِنْكُمْ أَحَدٌ؟" فَقَالَ رَجُلٌ: نَعَمْ، أَنَا يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي أَقُولُ: مَا لِيَ أُنَازَعُ الْقُرْآنَ؟" قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ: قَالَ سُفْيَانُ، ثُمَّ قَالَ الزُّهْرِيُّ شَيْئًا لَمْ أَحْفَظْهُ، انْتَهَى حِفْظِي إِلَى هَذَا وَقَالَ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ: فَانْتَهَى النَّاسُ عَنِ الْقِرَاءَةِ فِيمَا جَهَرَ فِيهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَلِيٌّ: قَالَ لِي سُفْيَانُ يَوْمًا: فَنَظَرْتُ فِي شَيْءٍ عِنْدِي فَإِذَا هُوَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ بِلَا شَكٍّ، وَقَالَ مُسَدَّدٌ فِي حَدِيثِهِ قَالَ مَعْمَرٌ: فَانْتَهَى النَّاسُ عَنِ الْقِرَاءَةِ فِيمَا جَهَرَ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ ابْنُ السَّرْحِ فِي حَدِيثِهِ: قَالَ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَانْتَهَى النَّاسُ، وَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ قَالَ سُفْيَانُ وَتَكَلَّمَ الزُّهْرِيُّ بِكَلِمَةٍ لَمْ أَسْمَعْهَا، فَقَالَ مَعْمَرٌ: إِنَّهُ قَالَ: فَانْتَهَى النَّاسُ، وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَرَوَى عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَانْتَهَى حَدِيثُهُ إِلَى قَوْلِهِ مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ؟ وَرَوَاهُ الْأَوْزَاعِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ فِيهِ: قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَاتَّعَظَ الْمُسْلِمُونَ بِذَلِكَ فَلَمْ يَكُونُوا يَقْرَءُونَ مَعَهُ فِيمَا يَجْهَرُ بِهِ قَالَ أَبُو دَاوُدَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ يَقُولُ: قَوْلُهُ: فَانْتَهَى النَّاسُ مِنْ كَلَامِ الزُّهْرِيِّ قَالَ الشَّيْخُ وَكَذَا قَالَهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ فِي التَّارِيخِ قَالَ: هَذَا الْكَلَامُ مِنْ قَوْلِ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَارِسِيُّ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ ⦗٢٢٦⦘ سُلَيْمَانَ بْنِ فَارِسٍ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، فَذَكَرَهُ، وَقَالَ فِي ابْنِ أُكَيْمَةَ هُوَ عُمَارَةُ بْنُ أُكَيْمَةَ اللَّيْثِيُّ وَيُقَالُ عَمَّارٌ قَالَ الشَّيْخُ: وَالَّذِي يَدُلُّ عَلَى أَنَّهُ مِنْ قَوْلِ الزُّهْرِيِّ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک نماز پڑھائی، ہمارا خیال ہے کہ وہ صبح کی نماز تھی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی تو فرمایا: ”کیا تم میں سے کسی نے ابھی میرے ساتھ قراءت کی ہے؟“ ایک آدمی نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسی لیے میں (اپنے دل میں) کہہ رہا تھا کہ «مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ؟» ”مجھے کیا ہوا ہے کہ مجھ سے قرآن چھینا جا رہا ہے؟ (یا مجھ پر قرآن مشکل ہو رہا ہے)۔““
معمر، زہری سے نقل فرماتے ہیں کہ لوگ ان نمازوں میں قراءت کرنے سے رک گئے جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جہراً قراءت فرماتے تھے۔
علی کہتے ہیں کہ ایک دن مجھے سفیان نے کہا: میں نے اپنی کتاب میں دیکھا تو اس میں یہ الفاظ تھے: بلا شبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صبح کی نماز ہی پڑھائی تھی۔
مسدد نے اپنی حدیث میں بیان کیا کہ معمر نے کہا: لوگ ان نمازوں میں قراءت سے رک گئے جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جہراً قراءت فرماتے تھے۔
ابن سرح نے اپنی حدیث میں کہا: معمر نے بواسطہ زہری، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ لوگ قراءت سے رک گئے۔
عبداللہ بن محمد زہری نے بیان کیا کہ سفیان نے کہا: زہری نے ایک کلمہ کہا جسے میں نے نہیں سنا تھا، تو معمر نے کہا کہ انہوں نے «فَانْتَهَى النَّاسُ» ”پس لوگ رک گئے“ کہا تھا۔
ابوداؤد فرماتے ہیں: اس حدیث کو عبدالرحمن بن اسحاق نے زہری سے روایت کیا ہے اور ان کی حدیث «مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ؟» ”مجھے کیا ہوا ہے کہ مجھ سے قرآن چھینا جا رہا ہے؟“ پر ختم ہوتی ہے، اور اوزاعی نے زہری سے روایت نقل کی، اس میں زہری کا قول ہے کہ ”پھر مسلمانوں نے اس سے نصیحت حاصل کی اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان نمازوں میں قراءت نہیں کرتے تھے جن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم جہراً قراءت فرماتے تھے۔“
ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے محمد بن یحییٰ بن فارس سے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ «فَانْتَهَى النَّاسُ» ”پس لوگ رک گئے“ زہری کے کلام سے ہے۔
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اسی طرح محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ نے «التَّارِيخ» میں اسے نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ کلام زہری کا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2893]
معمر، زہری سے نقل فرماتے ہیں کہ لوگ ان نمازوں میں قراءت کرنے سے رک گئے جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جہراً قراءت فرماتے تھے۔
علی کہتے ہیں کہ ایک دن مجھے سفیان نے کہا: میں نے اپنی کتاب میں دیکھا تو اس میں یہ الفاظ تھے: بلا شبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صبح کی نماز ہی پڑھائی تھی۔
مسدد نے اپنی حدیث میں بیان کیا کہ معمر نے کہا: لوگ ان نمازوں میں قراءت سے رک گئے جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جہراً قراءت فرماتے تھے۔
ابن سرح نے اپنی حدیث میں کہا: معمر نے بواسطہ زہری، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ لوگ قراءت سے رک گئے۔
عبداللہ بن محمد زہری نے بیان کیا کہ سفیان نے کہا: زہری نے ایک کلمہ کہا جسے میں نے نہیں سنا تھا، تو معمر نے کہا کہ انہوں نے «فَانْتَهَى النَّاسُ» ”پس لوگ رک گئے“ کہا تھا۔
ابوداؤد فرماتے ہیں: اس حدیث کو عبدالرحمن بن اسحاق نے زہری سے روایت کیا ہے اور ان کی حدیث «مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ؟» ”مجھے کیا ہوا ہے کہ مجھ سے قرآن چھینا جا رہا ہے؟“ پر ختم ہوتی ہے، اور اوزاعی نے زہری سے روایت نقل کی، اس میں زہری کا قول ہے کہ ”پھر مسلمانوں نے اس سے نصیحت حاصل کی اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان نمازوں میں قراءت نہیں کرتے تھے جن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم جہراً قراءت فرماتے تھے۔“
ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے محمد بن یحییٰ بن فارس سے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ «فَانْتَهَى النَّاسُ» ”پس لوگ رک گئے“ زہری کے کلام سے ہے۔
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اسی طرح محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ نے «التَّارِيخ» میں اسے نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ کلام زہری کا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2893]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم في الذي قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 2893 in Urdu