السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
596. -- باب: من قال لا يقرأ خلف الإمام على الإطلاق
-- باب: اس قول کا بیان کہ امام کے پیچھے مطلقا قراءت نہ کی جائے
حدیث نمبر: 2901
وَأَمَّا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ:" مَنْ صَلَّى وَرَاءَ الْإِمَامِ كَفَاهُ قِرَاءَةُ الْإِمَامِ" هَذَا هُوَ الصَّحِيحُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ مِنْ قَوْلِهِ وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ مَالِكٌ فِي الْمُوَطَّأِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَوْقُوفًا وَقَدْ رُوِيَ عَنْ سُوَيْدِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ مَرْفُوعًا ⦗٢٣٠⦘ وَهُوَ خَطَأٌ وَسُوَيْدٌ تَغَيَّرَ بِآخِرِهِ فَكَثُرَ الْخَطَأُ فِي رِوَايَاتِهِ، وَرُوِيَ عَنْ خَارِجَةَ بْنِ مُصْعَبٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ مَرْفُوعًا، وَخَارِجَةُ لَا يُحْتَجُّ بِهِ. أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا بَكْرِ بْنَ أَبِي نَصْرٍ الدَّارَبَرْدِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَانَ بْنَ مُحَمَّدٍ الْحَافِظَ هُوَ الْمَرْوَزِيُّ يَقُولُ: حَدِيثُ خَارِجَةَ عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ كَانَ لَهُ إِمَامٌ" غَلَطٌ مُنْكَرٌ وَإِنَّمَا هُوَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ مِنْ قَوْلِهِ عَلَى أَنَّهُ قَدْ رُوِيَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ خِلَافُهُ قَالَ عَبْدَانُ: ثنا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي عِمْرَانَ، ثنا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي الْأَزْهَرِ قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عُمَرَ، عَنِ الْقِرَاءَةِ خَلْفَ الْإِمَامِ فَقَالَ:" إِنِّي لَأَسْتَحْيِي مِنْ رَبِّ هَذِهِ الْبِنْيَةِ أَنْ أُصَلِّيَ صَلَاةً لَا أَقْرَأُ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ، كَذَا قَالَ".
(ا) سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ”جو شخص امام کے پیچھے نماز پڑھے تو امام کی قراءت اسے کافی ہے۔“
(ب) ایک دوسری سند سے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ «مَنْ كَانَ لَهُ إِمَامٌ» ”جو امام کے ساتھ نماز پڑھ رہا ہو تو اس کو امام کی قراءت ہی کافی ہے۔“
(ج) ابوازہر فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے امام کے پیچھے قراءت کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: ”مجھے اس گھر (بیت اللہ) کے رب سے شرم آتی ہے کہ میں نماز میں سورہ فاتحہ نہ پڑھوں۔“
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے یہی صحیح ہے کہ یہ ان کا اپنا قول ہے۔ سوید بن سعید عن علی بن مسہر عن عبیداللہ کی سند سے اسے مرفوع روایت کیا گیا ہے اور یہ غلطی ہے، سوید کا حافظہ آخر عمر میں بدل گیا تھا اس لیے ان کی روایات میں غلطیاں زیادہ ہو گئیں۔ خارجہ بن مصعب عن ایوب عن نافع کی سند سے بھی اسے مرفوع روایت کیا گیا ہے اور خارجہ قابل حجت نہیں ہے۔ عبدان بن محمد حافظ مروزی فرماتے ہیں: خارجہ عن ایوب عن نافع عن ابن عمر عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث «مَنْ كَانَ لَهُ إِمَامٌ» منکر غلطی ہے، یہ صرف ابن عمر رضی اللہ عنہما کا اپنا قول ہے، اگرچہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس کے خلاف بھی مروی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2901]
(ب) ایک دوسری سند سے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ «مَنْ كَانَ لَهُ إِمَامٌ» ”جو امام کے ساتھ نماز پڑھ رہا ہو تو اس کو امام کی قراءت ہی کافی ہے۔“
(ج) ابوازہر فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے امام کے پیچھے قراءت کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: ”مجھے اس گھر (بیت اللہ) کے رب سے شرم آتی ہے کہ میں نماز میں سورہ فاتحہ نہ پڑھوں۔“
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے یہی صحیح ہے کہ یہ ان کا اپنا قول ہے۔ سوید بن سعید عن علی بن مسہر عن عبیداللہ کی سند سے اسے مرفوع روایت کیا گیا ہے اور یہ غلطی ہے، سوید کا حافظہ آخر عمر میں بدل گیا تھا اس لیے ان کی روایات میں غلطیاں زیادہ ہو گئیں۔ خارجہ بن مصعب عن ایوب عن نافع کی سند سے بھی اسے مرفوع روایت کیا گیا ہے اور خارجہ قابل حجت نہیں ہے۔ عبدان بن محمد حافظ مروزی فرماتے ہیں: خارجہ عن ایوب عن نافع عن ابن عمر عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث «مَنْ كَانَ لَهُ إِمَامٌ» منکر غلطی ہے، یہ صرف ابن عمر رضی اللہ عنہما کا اپنا قول ہے، اگرچہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس کے خلاف بھی مروی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2901]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 2901 in Urdu