🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
596. -- باب: من قال لا يقرأ خلف الإمام على الإطلاق
-- باب: اس قول کا بیان کہ امام کے پیچھے مطلقا قراءت نہ کی جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2900
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ هَارُونُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، وَشُعْبَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ ابْنَ مَسْعُودٍ عَنِ الْقِرَاءَةِ، خَلْفَ الْإِمَامِ، فَقَالَ:" أَنْصِتْ لِلْقُرْآنِ فَإِنَّ فِي الصَّلَاةِ شُغُلًا، وَسَيَكْفِيكَ ذَاكَ الْإِمَامُ" وَإِنَّمَا يُقَالُ أَنْصِتْ لِلْقُرْآنِ لِمَا يُسْمَعُ لَا مَا لَا يُسْمَعُ" وَقَدْ قَالَ عَلْقَمَةُ: صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ عَبْدِ اللهِ فَلَمْ أَعْلَمْ أَنَّهُ يَقْرَأُ حَتَّى جَهَرَ بِهَذِهِ الْآيَةِ {وَقُلْ رَبِّي زِدْنِي عِلْمًا} وَرُوِّينَا عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ زِيَادٍ الْأَسَدِيِّ أَنَّهُ قَالَ:" صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ خَلْفَ الْإِمَامِ فَسَمِعْتُهُ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ".
(ا) سیدنا ابو وائل سے روایت ہے کہ ایک شخص نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے قراءت خلف الامام کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: قرآن (سننے) کے لیے خاموشی اختیار کر؛ کیونکہ یہ نماز میں شغل ہے اور تجھے امام کی قرات ہی کافی ہے۔
(ب) «أَنْصِتْ لِلْقُرْآنِ» ”قرآن کے لیے خاموشی اختیار کرو“ تب کہا جاتا ہے جب قرآن سنا جا رہا ہو نہ کہ اس وقت جب نہ سنا جا رہا ہو۔ (یعنی جہری قراءت میں آدمی سن سکتا ہے نہ کہ سری نمازوں میں)۔
(ج) علقمہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پہلو میں نماز ادا کی، مجھے نہیں پتا کہ انہوں نے قراءت کی ہے حتی کہ انہوں نے سورہ طہ کی آیت اونچی آواز سے پڑھی (جو مجھے سنائی دی) یعنی ﴿وَقُل رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا﴾ [سورة طه: 114] ”کہہ دیجیے! اے میرے رب میرے علم میں اضافہ فرما۔“
(د) ہمیں عبداللہ بن زیاد اسدی کے واسطے سے روایت بیان کی گئی ہے کہ میں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ کھڑے ہو کر امام کے پیچھے نماز ادا کی تو میں نے سنا کہ وہ ظہر و عصر میں (امام کے پیچھے ہی) قراءت کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 2900]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابن ابي شيبة 3780»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 2900 in Urdu