السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
77. -- باب: قراءة من قرأ وأرجلكم نصبا وأن الأمر رجع إلى الغسل وأن من قرأها خفضا فإنما هو للمجاورة
-- باب: اس شخص کی قراءت کا بیان جس نے ”وأرجلكم“ کو نصب کے ساتھ پڑھا اور یہ کہ حکم دھونے کی طرف لوٹتا ہے، اور جس نے اسے جر (زیر) کے ساتھ پڑھا تو وہ محض مجاورت (پڑوس) کی وجہ سے ہے
حدیث نمبر: 341
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى، ثنا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، أنا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: قَالَ لَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ:" أَتُحِبُّونَ أَنْ أُحَدِّثَكُمْ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ، فَذَكَرَ ⦗١١٨⦘ الْحَدِيثَ، قَالَ: ثُمَّ اغْتَرَفَ غَرْفَةً أُخْرَى فَرَشَّ عَلَى رِجْلِهِ وَفِيهَا النَّعْلُ، وَالْيُسْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، وَمَسَحَ بِأَسْفَلِ النَّعْلَيْنِ".
عطاء بن یسار کہتے ہیں: ہم کو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: کیا تم پسند کرتے ہو کہ میں تم کو بتلاؤں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے وضو کیا کرتے تھے؟ پھر لمبی حدیث ذکر کی، فرماتے ہیں: پھر آپ نے دوسرا چلو بھرا تو اپنے پاؤں پر چھڑکا اور اس میں جوتی تھی اور بائیں پاؤں میں بھی ایسا ہی کیا اور جوتیوں کے نیچے مسح کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 341]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابو داؤد 137»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 341 in Urdu