السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
678. -- باب: الصبي يتوثب على المصلي ويتعلق بثوبه فلا يمنعه
-- باب: بچے کا نمازی پر اچھلنا اور اس کے کپڑے سے لٹکنا اور نمازی کا اسے نہ روکنا
حدیث نمبر: 3423
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْمُنَادِي، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، ثنا أَبِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ حَامِلٌ أَحَدَ ابْنَيْهِ الْحَسَنَ أَوِ الْحُسَيْنَ، فَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ وَضَعَهُ عِنْدَ قَدَمِهِ الْيُمْنَى فَسَجَدَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجْدَةٍ أَطَالَهَا قَالَ أَبِي: فَرَفَعْتُ رَأْسِي مِنْ بَيْنَ النَّاسِ فَإِذَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاجِدٌ وَإِذَا الْغُلَامُ رَاكِبٌ عَلَى ظَهْرِهِ فَعُدْتُ فَسَجَدْتُ فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ النَّاسُ: يَا رَسُولَ اللهِ، لَقَدْ سَجَدْتَ فِي صَلَاتِكَ هَذِهِ سَجْدَةً مَا كُنْتَ تَسْجُدُهَا، أَفَشَيْءٌ أُمِرْتَ بِهِ أَوْ كَانَ يُوحَى إِلَيْكَ؟ قَالَ:" كُلُّ ذَلِكَ لَمْ يَكُنْ، إِنَّ ابْنِي ارْتَحَلَنِي فَكَرِهْتُ أَنْ أَعْجَلَهُ حَتَّى يَقْضِيَ حَاجَتَهُ".
عبداللہ بن شداد بن ہاد رضی اللہ عنہما اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس اپنے نواسے حسن یا حسین رضی اللہ عنہما کو اٹھائے ہوئے تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھانے کے لیے آگے بڑھے تو انہیں اپنے دائیں پاؤں کے قریب بٹھا دیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا اور اس کو بہت طویل کر دیا، میں نے اپنا سر اٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو سجدے میں ہیں اور بچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیٹھ پر سوار ہے، میں دوبارہ سجدے میں چلا گیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز سے سلام پھیرا تو لوگوں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے اس نماز میں بہت ہی لمبا سجدہ کیا، اتنا لمبا سجدہ تو آپ نہیں کرتے، کیا دورانِ نماز آپ کو کوئی حکم دیا گیا یا آپ کی طرف وحی کی جا رہی تھی؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان میں سے کوئی بات نہیں ہوئی، بلکہ میرا بیٹا میرے اوپر سوار تھا، مجھے اچھا نہ لگا کہ میں جلدی کروں اور وہ اپنا شوق پورا نہ کر پائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3423]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه النسائي 1141»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 3423 in Urdu