🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
679. -- باب: من تناول في صلاته شيئا بيده أو غمز غيره
-- باب: اس شخص کا بیان جس نے نماز میں اپنے ہاتھ سے کوئی چیز لی یا کسی دوسرے کو دبایا (اشارہ کیا)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3426
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ يَعْنِي ابْنَ مِهْرَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فَسَمِعْنَاهُ يَقُولُ:" أَعُوذُ بِاللهِ مِنْكَ" ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ قَالَ:" أَلْعَنُكَ بِلَعْنَةِ اللهِ" ثَلَاثًا وَبَسَطَ يَدَهُ كَأَنَّهُ يَتَنَاوَلُ شَيْئًا، فَلَمَّا فَرَغَ مِنَ الصَّلَاةِ قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ، سَمِعْنَاكَ تَقُولُ فِي الصَّلَاةِ شَيْئًا لَمْ نَسْمَعْكَ تَقُولُهُ قَبْلِ ذَلِكَ وَرَأَيْنَاكَ بَسَطْتَ يَدَكَ، فَقَالَ:" إِنَّ عَدُوَّ اللهِ إِبْلِيسَ لَعَنَهُ اللهُ جَاءَ بِشِهَابٍ مِنْ نَارٍ لِيَجْعَلَهُ فِي وَجْهِي، فَقُلْتُ: أَعُوذُ بِاللهِ مِنْكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قُلْتُ: أَلْعَنُكَ بِلَعْنَةِ اللهِ التَّامَّةِ فَلَمْ يَسْتَأْخِرْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ أَرَدْتُ أَنْ آخُذَهُ وَاللهِ لَوْلَا دَعْوَةُ أَخِينَا سُلَيْمَانَ؛ لَأَصْبَحَ مُوثَقًا يَلْعَبُ بِهِ وِلْدَانُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ الْمُرَادِيِّ وَقَدْ مَضَى بَعْضُ مَعْنَاهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي مَسْأَلَةِ قَضَاءِ الْفَائِتَةِ.
(ا) سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے، ہم نے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ «أَعُوذُ بِاللهِ مِنْكَ» ”میں تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں“ پڑھا۔ پھر فرمایا: ”میں تجھ پر اللہ کی لعنت کرتا ہوں“، یہ کلمات بھی تین بار کہے اور اپنے ہاتھ پھیلائے، گویا کوئی چیز پکڑ رہے ہیں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم نے نماز میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ ایسے کلمات کہتے سنا جو اس سے پہلے آپ نہیں کہا کرتے تھے اور ہم نے آپ کو نماز میں ہاتھ پھیلائے دیکھا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کا دشمن ابلیس، اللہ کی اس پر پھٹکار پڑے، وہ آگ کا شعلہ لے کر آیا تھا تاکہ میرے چہرے کے سامنے ڈال دے، تو میں نے تین بار «أَعُوذُ بِاللهِ مِنْكَ» ”میں تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں“ پڑھا، پھر کہا: ”میں تجھ پر اللہ کی لعنت بھیجتا ہوں“، پھر بھی وہ پیچھے نہ ہٹا تو میں نے ارادہ کیا کہ اس کو پکڑ لوں۔ اگر ہمارے بھائی سلیمان علیہ السلام کی دعا نہ ہوتی تو میں اسے پکڑ کر باندھ لیتا تاکہ اہل مدینہ کے بچے اس سے کھیلتے۔“
(ب) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس کے ہم معنی حدیث فوت ہونے والی قضا نمازوں کے مسئلے میں گزر چکی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3426]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم 542»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 3426 in Urdu