السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
679. -- باب: من تناول في صلاته شيئا بيده أو غمز غيره
-- باب: اس شخص کا بیان جس نے نماز میں اپنے ہاتھ سے کوئی چیز لی یا کسی دوسرے کو دبایا (اشارہ کیا)
حدیث نمبر: 3427
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي طَاهِرٍ الدَّقَّاقُ بِبَغْدَادَ أنبأ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْخَرَقِيُّ، ثنا أَبُو قِلَابَةَ، ثنا عَمْرُو بْنُ خَلِيفَةَ، وَسَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بَيْنَمَا أَنَا أُصَلِّي إِذِ اعْتَرَضَ لِي شَيْطَانٌ فَأَخَذْتُهُ فَخَنَقَتْهُ فَلَوْلَا دَعْوَةُ أَخِي سُلَيْمَانَ لَأَوْثَقْتُهُ فِي بَعْضِ هَذِهِ السَّوَارِي حَتَّى يَرَاهُ النَّاسُ أَوْ تَرَوْنَهُ" وَرُوِّينَا فِي حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الْكُسُوفِ قَالَ:" إِنِّي رَأَيْتُ الْجَنَّةَ أَوْ أُرِيتُ الْجَنَّةَ فَتَنَاوَلْتُ مِنْهَا عُنْقُودًا".
(ا) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک دفعہ میں نماز پڑھ رہا تھا کہ ایک شیطان مجھ سے جھگڑنے لگا، میں نے اس کو پکڑ کر اس کا گلا دبایا۔ اگر میرے بھائی سلیمان علیہ السلام کی دعا نہ ہوتی تو میں اس کو کسی ستون کے ساتھ باندھ دیتا تاکہ لوگ اسے دیکھ لیتے یا تم اس کو دیکھ پاتے۔“
(ب) سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کسوف کے بارے میں ہے کہ ”میں نے جنت دیکھی“ یا فرمایا: ”مجھے جنت دکھلائی گئی تو میں اس سے ایک خوشہ لینے لگا تھا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3427]
(ب) سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کسوف کے بارے میں ہے کہ ”میں نے جنت دیکھی“ یا فرمایا: ”مجھے جنت دکھلائی گئی تو میں اس سے ایک خوشہ لینے لگا تھا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3427]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 449»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 3427 in Urdu