السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
77. -- باب: قراءة من قرأ وأرجلكم نصبا وأن الأمر رجع إلى الغسل وأن من قرأها خفضا فإنما هو للمجاورة
-- باب: اس شخص کی قراءت کا بیان جس نے ”وأرجلكم“ کو نصب کے ساتھ پڑھا اور یہ کہ حکم دھونے کی طرف لوٹتا ہے، اور جس نے اسے جر (زیر) کے ساتھ پڑھا تو وہ محض مجاورت (پڑوس) کی وجہ سے ہے
حدیث نمبر: 353
وَمِنْهَا مَا أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي حَيَّةَ، قَالَ: رَأَيْتُ عَلِيًّا تَوَضَّأَ، فَغَسَلَ كَفَّيْهِ حَتَّى أَنْقَاهُمَا، ثُمَّ مَضْمَضَ ثَلَاثًا، وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ، وَغَسَلَ قَدْمَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ، ثُمَّ قَامَ فَأَخَذَ فَضْلَ وَضُوئِهِ فَشَرِبَهُ، وَهُوَ قَائِمٌ ثُمَّ قَالَ:" إِنِّي أَحْبَبْتُ أَنْ أُرِيَكُمْ كَيْفَ كَانَ طُهُورُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ". هَكَذَا رَوَاهُ أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي حَيَّةَ. وَثَبَتَ فِي مِثْلِ هَذِهِ الْقِصَّةِ أَنَّهُ مَسَحَ، وَأَخْبَرَ أَنَّهُ وُضُوءُ مَنْ لَمْ يُحْدِثْ.
ابو حیہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے اپنی ہتھیلیوں کو دھویا اور انہیں صاف کیا، پھر تین مرتبہ کلی کی اور تین مرتبہ ناک میں پانی چڑھایا، تین مرتبہ اپنے چہرے اور بازوؤں کو دھویا اور اپنے سر کا مسح کیا۔ پھر اپنے پاؤں کو ٹخنوں سمیت دھویا، پھر کھڑے ہوئے اور اپنے وضو کا بچا ہوا پانی لیا اور اسے کھڑے ہو کر پیا، پھر فرمایا: مجھے پسند ہے کہ آپ کو دکھاؤں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو کیسا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 353]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ أخرجه ابو داؤد 116»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 353 in Urdu