السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
718. -- باب: من وجد في صلاته قملة فصرها ثم أخرجها من المسجد، أو دفنها فيه أو قتلها
-- باب: اس شخص کا بیان جس نے اپنی نماز میں جوں پائی تو اسے کپڑے میں باندھ لیا پھر اسے مسجد سے باہر نکال دیا، یا اسے وہیں دفن کر دیا یا اسے مار دیا
حدیث نمبر: 3609
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ مُسْلِمٌ الْمُلَائِيُّ، عَنْ زَاذَانَ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ خُثَيْمٍ قَالَ: رَأَى عَبْدُ اللهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَمْلَةً عَلَى ثَوْبِ رَجُلٍ فِي الْمَسْجِدِ فَأَخَذَهَا فَدَفَنَهَا فِي الْحَصْبَاءِ ثُمَّ قَالَ: {أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ كِفَاتًا أَحْيَاءً وَأَمْوَاتًا} [المرسلات: ٢٦] ⦗٤١٩⦘ وَيُذْكَرُ نَحْوُ هَذَا عَنْ مُجَاهِدٍ وَعَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ يَدْفِنُهَا كَالنُّخَامَةِ وَرُوِّينَا عَنْ مَالِكِ بْنِ يَخَامِرَ أَنَّهُ قَالَ: رَأَيْتُ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ يَقْتُلُ الْقَمْلَةَ وَالْبَرَاغِيثَ فِي الصَّلَاةِ، وَعَنِ الْحَسَنِ قَالَ: لَا بَأْسَ بِقَتْلِ الْقَمْلِ فِي الصَّلَاةِ وَلَكِنْ لَا يَعْبَثُ.
(ا) ربیع بن خثیم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے مسجد میں ایک شخص کے کپڑے پر جوں دیکھی تو اس کو پکڑ کر کنکریوں میں دفن کر دیا، پھر فرمایا: ﴿أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ كِفَاتًا * أَحْيَاءً وَأَمْوَاتًا﴾ [سورة المرسلات: 25-26] ”کیا ہم نے زمین کو سمیٹنے والی نہیں بنایا زندوں کو اور مردوں کو۔“
(ب) اسی کی مثل مجاہد اور ابن مسیب رحمہما اللہ سے منقول ہے کہ بلغم کی طرح اس کو بھی دفن کر دے۔
(ج) مالک بن یخامر رحمہ اللہ کے واسطے سے ہمیں روایت بیان کی گئی کہ میں نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو دیکھا، وہ جوں اور پسّو کو نماز میں ہی مار دیا کرتے تھے۔
(د) حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نماز میں جوں مارنے میں کوئی حرج نہیں لیکن فضول کھیلنے نہ لگ جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3609]
(ب) اسی کی مثل مجاہد اور ابن مسیب رحمہما اللہ سے منقول ہے کہ بلغم کی طرح اس کو بھی دفن کر دے۔
(ج) مالک بن یخامر رحمہ اللہ کے واسطے سے ہمیں روایت بیان کی گئی کہ میں نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو دیکھا، وہ جوں اور پسّو کو نماز میں ہی مار دیا کرتے تھے۔
(د) حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نماز میں جوں مارنے میں کوئی حرج نہیں لیکن فضول کھیلنے نہ لگ جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3609]
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 3609 in Urdu