السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
790. -- باب: كيف يسجد للسهو إذا سجدهما بعد السلام
-- باب: سجدہ سہو کس طرح کرے جب وہ دونوں سجدے سلام کے بعد کرے
حدیث نمبر: 3892
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى إِحْدَى صَلَاتِي الْعَشِيِّ الظُّهْرَ أَوِ الْعَصْرَ، وَأَكْبَرُ ظَنِّي أَنَّهُ قَالَ: الظُّهْرَ، فَسَلَّمَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ وَقَامَ إِلَى خَشَبَةٍ فِي مُقَدَّمِ الْمَسْجِدِ وَهُوَ غَضْبَانُ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَيْهَا وَفِي النَّاسِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَهَابَاهُ أَنْ يُكَلِّمَاهُ وَخَرَجَ سَرَعَانُ النَّاسِ، فَقَالُوا: أَقَصُرَتِ الصَّلَاةُ؟ أَقَصُرَتِ الصَّلَاةُ؟ وَفِي النَّاسِ رَجُلٌ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُوهُ ذَا الْيَدَيْنِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَنَسِيتَ أَمْ قَصُرَتِ الصَّلَاةُ؟ فَقَالَ لَهُ:" لَمْ أَنْسَ وَلَمْ تَقْصُرِ الصَّلَاةُ" قَالَ: بَلْ نَسِيتَ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ:" صَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ" فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، ⦗٤٩٨⦘ ثُمَّ كَبَّرَ فَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَكَبَّرَ، ثُمَّ وَضَعَ رَأْسَهُ فَكَبَّرَ، ثُمَّ سَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَكَبَّرَ" أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ يَزِيدَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: وَأَكْثَرُ ظَنِّي أَنَّهَا الْعَصْرُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں زوالِ آفتاب کے بعد والی نمازوں میں سے کوئی نماز (ظہر یا عصر) پڑھائی۔ راوی کہتے ہیں: میرا غالب گمان ہے کہ انہوں نے ظہر کا کہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دو رکعتیں پڑھانے کے بعد سلام پھیر دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ گاہ کے سامنے لگی ہوئی لکڑی کے پاس گئے اور اس پر ہاتھ رکھ کر کھڑے ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر غصے کے آثار نمایاں تھے، پھر جلدی جانے والے لوگ یہ کہتے ہوئے کہ نماز کم ہوگئی؟ نماز کم ہوگئی؟ چلے گئے۔ وہاں موجود لوگوں میں سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما بھی تھے لیکن وہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بات کرنے سے گھبرا رہے تھے، لوگوں میں ایک آدمی تھا جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذوالیدین کہہ کر پکارتے تھے، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ بھول گئے ہیں یا نماز کم ہوگئی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ میں بھولا ہوں اور نہ ہی نماز کم ہوئی ہے“۔ اس نے کہا: تب آپ بھول گئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ذوالیدین نے سچ کہا ہے۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے باقی دو رکعتیں پڑھائیں اور سلام پھیر کر تکبیر کہی اور اپنے معمول کے سجدوں جیسا یا ان سے کچھ لمبا سجدہ کیا، پھر سر اٹھایا اور تکبیر کہہ کر سجدہ کیا پھر تکبیر کہی اور سر اٹھایا۔
(ب) ایک روایت میں «وَأَكْثَرُ ظَنِّي أَنَّهَا الْعَصْرُ» ”اور میرا غالب گمان یہی ہے کہ وہ عصر تھی“ کے الفاظ ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3892]
(ب) ایک روایت میں «وَأَكْثَرُ ظَنِّي أَنَّهَا الْعَصْرُ» ”اور میرا غالب گمان یہی ہے کہ وہ عصر تھی“ کے الفاظ ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3892]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 482۔ 1229»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 3892 in Urdu