🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
796. -- باب: ما يستدل به على أنه لا يجوز أن يكون حديث ابن مسعود في تحريم الكلام ناسخا لحديث أبي هريرة وغيره في كلام الناسي وذلك لتقدم حديث عبد الله وتأخر حديث أب
-- باب: اس بات کے استدلال کا بیان کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی کلام کی حرمت والی حدیث کا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ وغیرہ کی بھول کر کلام کرنے والی حدیث کے لیے ناسخ ہونا جائز نہیں، اور یہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث کے مقدم ہونے اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کے مؤخر ہونے کی وجہ سے ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3920
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَتَّابٍ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ عَمِّهِ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ قَالَ: وَمِمَّنْ يُذْكَرُ أَنَّهُ قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ مِنْ مُهَاجِرَةِ أَرْضِ الْحَبَشَةِ الْأُولَى، ثُمَّ هَاجَرَ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَذَكَرَهُمْ وَذَكَرَ فِيهِمْ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ قَالَ: وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَكَذَا ذَكَرَهُ سَائِرُ أَهْلِ الْمَغَازِي بِلَا اخْتِلَافٍ بَيْنَهُمْ فِيهِ.
موسیٰ بن عقبہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: جن لوگوں کے بارے میں ذکر کیا جاتا ہے کہ وہ حبشہ کی پہلی ہجرت کرنے والوں میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مکہ آئے، پھر انہوں نے مدینہ کی طرف ہجرت کی، ان میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بھی ہیں اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بدر میں بھی شریک ہوئے تھے۔ اسی طرح تمام اہل سیر نے بلا اختلاف ذکر کیا ہے۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں آفتاب ڈھلنے کے بعد والی نمازوں میں سے ایک نماز پڑھائی۔
یحییٰ بن ابی کثیر رحمہ اللہ کی سند ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”ایک مرتبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھ رہا تھا۔“ پھر انہوں نے ذوالیدین کا قصہ ذکر کیا۔ ایک روایت میں ہے: «صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم » ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3920]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه الحاكم 6756»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 3920 in Urdu